:سوال
بچوں خطنے پر ذبیحہ کرنا کیسا ہے؟
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
ذبیحہ کوئی ختنے پر لازم نہیں ہے۔ ذبیحہ کرنا عقیقے پر ذبیحہ کرنا ضروری ہے۔ لڑکے کے لیے دو جانور چھوٹے اور لڑکی کے لیے ایک جانور۔ باقی ختنے کے لیے ایسا نہیں ہے کہیں کوئی۔ کوئی اس کے لیے کوئی تقریب بھی ثابت نہیں ہے۔
جو کچھ کی جاتی ہے یہ رسومات ہیں اور ایمان والوں کی نہیں ہیں یہ رسومات۔ یہ غیر مومنوں کی رسومات ہیں اس لیے ایسا کرنا کوئی ضروری نہیں۔ نہ کی جائیں رسومات کو توڑا جائے، یہی مومنوں کا طریقہ ہے۔ وہ رسومات کو توڑا کرتے ہیں اور سنت کو رائج کیا کرتے ہیں۔ جہاں رسم آتی ہے وہاں سنت ختم ہوتی ہے، جہاں سنت احیاء کی جاتی ہے، سنت کو زندہ کیا جاتا ہے، وہاں رسم کی جڑ کاٹی جاتی ہے۔
تو ہمیں رسموں کو ختم کرنا چاہیے، ان پر ہمیں عمل نہیں کرنا چاہیے پوری ہمت کے ساتھ۔ اللہ کی رضا، خوشنودی ہمارا مقصد ہے اور، ا، انسانوں سے، لوگوں سے، معاشرے کا خوف نہیں ہونا چاہیے۔ ایمان والے اللہ کے سوا کسی سے خوف نہیں رکھتے اپنے دل پہ۔
تو ساتویں دن کی یہ شرط ہے کہ ساتویں دن کرنا چاہیے جیسے اگر کوئی، ا، آج پی، پیر ہے۔ پیر کے دن کسی کی ولادت ہو تو اتوار کے دن عقیقہ آنے والے اتوار کو عقیقہ کر دیا جائے، بس یہ ساتواں دن ہو جاتا ہے۔ اور اگر ساتویں دن نہ کر سکیں تو چودھویں دن کے لیے رخصت ہے، یہ رخصت ہے اقوال کی وجہ سے۔ بہرحال بہتر یہی ہے کہ حدیث میں جیسا حکم ہے ویسا کیا جائے، ساتویں دن۔
مومن ساتھی رسم کے کوئی کھانے نہ کھائیں تو بہتر ہے، ایسا جو رسم کے طور پر گوشت ہو یا کوئی ایسی چیز ہو، یہ اگر کوئی کرتا بھی ہے تو صدقے کے طور پہ کرے حالانکہ یہ درست نہیں ہے، ایسا جو صدقہ ایسے موقع پہ نہیں بتایا گیا ہے تو ایسا کرنا یہ بدعت اور رسم ہے، رسم بدعت ہوتی ہے اور اس کا کرنا گناہ ہوتا ہے۔ تو اس لیے ہمیں، ہم گناہوں میں اپنے آپ کو کیوں شامل کریں، نہ مٹھائی نہ کوئی کھانا ایسا نہیں کھانا چاہیے۔