:سوال
اگلا سوال یہ ہے کہ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دنیا کے معاملے کے سامنے، معاملے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی ہے، اور اب وہ لوگوں کی مدد کر سکتے ہیں۔
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
تمام صحابہ کرام نے مدد کی ہے، سب سے زیادہ اس معاملے میں مدد کرنے والے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔
آپ اگر مناقبِ صحابہ کے باب میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مناقب دیکھیں گے، تو آپ کو معلوم ہوگا کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا: میں نے سب کے احسان چکا دیے ہیں سوائے ابوبکر کے۔ اس کا بدلہ اس کو اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہاں سے ملے گا۔
عمر رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ اب… اگر ابوبکر کے مجھے دو عمل میرے کھاتے میں ڈال دیے جائیں، میرے نامہِ اعمال میں شامل کر دیے جائیں، تو میں اس کے بدلے اپنے سارے اعمال دینے کو تیار ہوں، ساری زندگی کے اعمال۔ دو اعمال، دو عمل کے بدلے میں، ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے۔ وہ دو عمل کیا؟
ایک وہ جب غارِ ثور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ، دیکھیے کیسی فضیلت ہے! نبی علیہ السلام ہجرت کر رہے ہیں مکے سے، ابوبکر رضی اللہ عنہ صرف ساتھ ہیں۔ اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے… انتظار میں تھے کہ اب وقت آنے والا ہے ہجرت کا، اس وطن کو ٹھوکر مارنے کا، گھربار والوں والوں کو چھوڑنے کا۔ بہت خوش تھے اس سے اور اس کے لیے اونٹنیاں دو خریدی ہوئی تھیں اور ان کی خوب پرورش کر رہے تھے، خدمت کر رہے تھے، اس کے لیے تیاری کر رہے تھے۔ کیسے زبردست مجاہد تھے یہ۔ یہ ان کے… جیسے غزوات کے لیے تیاریاں ہوتی ہیں، ایسے ہجرت کے لیے تیاری کر رہے تھے۔ یہ بھی ایک ان کا بڑا جہاد تھا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ہَاجَرُوْا وَجَاہَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ ۙ اُولٰٓئِکَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللہِ۔جنہوں نے… جو ایمان لائے اور اس کے بعد ہجرت کی، پھر انہوں نے جہاد کیا اللہ کی راہ میں، قتال کیا، یہی صحیح معنوں میں اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے امیدوار ہیں۔تو ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں جب نبی علیہ السلام فر… پہنچے اور انہوں نے اس بات کی ان کو اطلاع دی کہ اب ہجرت کرنا ہے مجھے، تو فرمایا کہ کیا میں آپ کے ساتھ جا سکتا ہوں؟ نبی علیہ السلام نے ان سے کہا کہ ہاں تو میرے ساتھ جاؤ گے۔ وہ اونٹیاں دو تیار تھیں۔ سب کچھ اثاثہ اپنے گھر کا لے لیا، گھر والوں کے لیے بس ضروری چیزیں چھوڑیں اور باقی سارا اثاثہ ساتھ لے لیا۔تو ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مق… چنانچہ علی رضی اللہ عنہ کہتے تھے،(عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے تھے) تو ایک تو وہ بات جب غارِ ثور میں کچھ دن آپ وہاں محفوظ ر رکھا ہے اپنے آپ کو، تو ال… ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ ابھی داخل نہیں ہوں اس میں، میں اس کو ذرا صفائی کر دوں اس کی۔ تو تمام صفائی کی ہے اس کی غار کی اور اس کے بعد اس کے سوراخ بند کیے ہیں۔ جتنے آپ کے کپڑے میں گنجائش ہو سکتی تھی اس سے سارے سوراخ بند کر دیے، پھر بھی دو سوراخ رہ گئے۔
تو نبی علیہ السلام جب آپ کے ساتھ تشریف لے گئے، تو آپ نے کچھ آرام فرمایا نبی علیہ السلام نے اور ان کے زانو پہ سر رکھا۔ تو دو سوراخ باقی رہ گئے تھے، ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اندیشہ تھا کہ اس سے کوئی کیڑا نہ آئے، تو آپ نے اپنے پیر سے اس کو بند کر دیا، دونوں سوراخوں کو۔ سانپ نے ڈس لیا، سانپ کا اس میں وہ ہوگا بل ہوگا اس غار غار کے اندر۔ وہ آیا سانپ اپنے بل میں تو وہاں اس کو بند پایا، تو ان کا وہ پیر اس پہ لگا ہوا تھا، اس نے ڈس لیا۔تو تکلیف، کرب کی شدت میں ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پیر نہیں ہٹایا اس جگہ سے۔ لیکن کرب کی شدت میں آپ کے آنسو نکل پڑے، ایسے اس مجاہد کے، اور وہ آنسو نبی علیہ السلام کے رخسار پہ گرے اور آپ نے آنکھ کھول کر دیکھا، کہا کہ ابوبکر کیا ہوا؟ انہوں نے بتایا تو نبی علیہ السلام نے لعابِ دہن لگایا، تو اس وقت فوری طور سے وہ تکلیف رفع تو ہو گئی، مگر جسم میں اس کا اثر رہا۔ اور موت کے اسباب میں سے ایک یہ بھی سبب تھا۔تو نبی علی… عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے تھے کہ ایک تو یہ عمل ابوبکر کا، کہ انہوں نے اپنی جان قربان کرنے کے لیے نبی علیہ السلام کی آرام کی خاطر، اس میں دقیقہ نہیں اٹھایا، اس سے ہچکچاہٹ نہیں ہوئی ان کو، اپنی جان قربان کرنے کے لیے تیار ہو گئے، سانپ سے ڈسوا لیا۔ یہ خودکشی نہیں ہے، یہ جاں فروشی ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے، اللہ کے لیے، اللہ تبارک و تعالیٰ کے لیے۔
دوسرا عمل، نبی علیہ السلام کی وفات کے بعد جب ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ ہوئے ہیں، تو اس وقت پہلے سے ایسے تھے جو نبوت کے دعویٰ کر رہے تھے، باغیانہ روش اختیار کیے ہوئے تھے۔ اسلامی سلطنت پھیل رہی تھی، ادھر اندر ہی اندر یہ باغیانہ روش بھی اٹھ رہی تھی۔ اور نبی علیہ السلام سے مسلمہ کذاب نے کہا بھی تھا کہ آپ ہمارا حصہ رکھ لیجیے اپنے اقتدار میں، اس قسم کے۔تو وہ اس وقت ان کو زیادہ ان کی جرات ہو گئی تھی ان کے اندر پیدا اور بہت سوں کو انہوں نے اپنے ساتھ ملا لیا تھا، اور اس کے بعد جو جنگ ہوئی ہے۔ انہوں نے زکوٰۃ دینے کا بھی انکار کر دیا تھا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فورا اعلان کر دیا کہ انکاری زکوٰۃ… زکوٰۃ کے انکاریوں کے خلاف جہاد کیا جائے گا، تلوار اٹھائی جائے گی۔صحابہ کرام ذہنی طور سے اس کے لیے اس وقت تیار نہیں تھے، سمجھ میں نہیں آئی تھی ان کے بات۔ تو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگے، ولی نمبر دو اس امت کے، کہنے لگے کہ کیا آپ ان کے خلاف اٹھائے… تلوار اٹھائیں گے جو کلمہ پڑھتے ہیں، ہمارے ساتھ صلوٰۃ میں شامل ہوتے ہیں؟ ان کے خلاف تلوار اٹھائیں گے؟تو ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ ہاں میں تلوار اٹھاؤں گا، تم سب میرا اس کا ساتھ دو گے، میں پھر بھی تلوار اٹھاؤں۔ وحی کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے، اب کوئی اگر اسلام میں تبدیلی لانے کی کوشش کرے گا، صلوٰۃ اور زکوٰۃ میں فرق کرے گا، تو م… ابوبکر اس کے، ابو قحافہ کا بیٹا اس کے خلاف تلوار اٹھائے گا، تم ساتھ دو یا نہ دو۔
عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ڈھیلے پڑ گئے، صحابہ کرام نے فوراً اس فیصلے کو قبول کر لیا ہے۔ شورائیت ہوتی تھی، لیکن فیصلہ قرآن و حدیث کے، کے رو سے ہی کیا جاتا تھا، اور خلیفہ یا امیر کو فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔تو اب… عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس فیصلے کو اور اس جرات آمیز فیصلے کو وہ عمل قرار دیا، دوسرا یہ عمل تھا۔ ان دو عمل کے لیے اپنے پوری زندگی کے اعمال دینے کو تیار تھے۔ گویا ان کے دو، دو عمل جو تھے، وزن میں ان کو بھاری نظر آئے اپنے سارے اعمال کے مقابلے میں۔
تو اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ک… کیا مقام ہے۔ یہ ولی نمبر ایک ہیں، یہ ولی نمبر دو ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جتنے بھی اقوال ملتے ہیں، ان میں یہی ثابت ہوتا ہے ولی نمبر ایک، نمبر دو۔ اپنے صحابہ کا جہاں ذکر کر رہے ہیں تو ابوبکر کا اعلان کر رہے ہیں، عمر رضی اللہ عنہ کا اعلان کر رہے ہیں، صرف دو کا کبھی، کبھی تین کا عثمان رضی اللہ عنہ کا آ گیا، عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا آ گیا۔علی رضی اللہ عنہ تو کم عمر بھی تھے اور ویسے بلا شک و شبہ نبی علیہ السلام کے داماد تھے، بڑے مجاہد تھے، اللہ کے سچے ولی تھے، علم میں اپنی مثال آپ تھے۔ آپ کا مرتبہ کوئی کم نہیں تھا صحابہ کرام میں، لیکن فرق تھا صحابہ کرام میں اس لحاظ سے۔ باقی یہ جو کہا کرتا ہے، یہ شیعہ کہتے ہیں کہ من کنت مولاہ فعلی مولاہ ۔ یہ سب جو جھوٹی باتیں ہیں انہوں نے شیعوں کی، جو اصولِ کافی ہے اس کی روایتیں ہیں، ہمیں ان کو کوئی اہمیت نہیں دینا چاہیے اور ایسی چیزوں کو نہیں۔ ہمیں جو صحیح تاریخ ہے، قرآن سے جو فضیلت ہمیں ملتی ہے صحابہ کرام کی اور پھر صحیح احادیث سے، صحیحین میں ہو یا سنن کی صحیح روایات میں ہو، وہ، وہ ہمارے لیے قابلِ اعتبار ہیں، باقی یہ جھوٹی سچی باتیں جو ہیں ان پہ ہم زیادہ توجہ نہ دیں تو بہتر ہے۔صحابہ کرام میں یہ خلفائے اربعہ ہیں، ان کی ترتیب ہے اسی لحاظ سے جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی خلافت کا موقع دیا ان کو، وہی ترتیب ہے۔ پھر اس کے بعد جو دوسرے نبی علیہ السلام کے شوریٰ میں ہیں، اس میں عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقام ہے اور دوسرے صحابہ ہیں۔ عشرہ مبشرہ ہیں، زبیر بن العوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں، پھر نبی علیہ السلام کے وہ جانثار صحابہ ہیں جنہوں نے ہمیشہ اپنی جان کی قربانیں دی ہے، غزوہ مختلف غزوات میں۔ اس میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقام ہے، زبیر بن العوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقام ہے جن کو نبی علیہ السلام نے حواری کہا ہے، تو ان کا صحابہ کا اپنا اپنا اس طرح سے مقام ہے۔