:سوال
اگر کوئی قریبی مشرک مر جائے اور کوئی اس کی نمازِ جنازہ پڑھانے والا نہ ہو تو کیا حکم ہے؟
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
اگر کوئی ماں باپ میں سے یا بیوی بچوں میں اہل و عیال میں مشرک مر جائے اور اس کا کوئی اور جنازہ پڑھانے والا نہ ہو، تو اس کو بغیر صلاۃ المیت کے دفن کر دیا جائے گا، جیسے ابو طالب کو۔ نبی علیہ السلام کے چچا کو جو کافر مرا تو نبی علیہ السلام اس کو چھوڑ کر چلے آئے، نہ اس کو غسل دیا، نہ کفن پہنایا، نہ دفن کیا۔ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو صرف یہ حکم دے دیا کہ اس کو بس دفن کر دو بس۔
تو اس سے بھی یہی اندازہ ہوتا ہے، جو مختلف صحیحین اور سنن میں روایتیں ہیں اس کے بارے میں، وفاتِ وفاتِ ابو طالب کے بارے میں اس سے یہی پتہ چلتا ہے کہ غسل وغیرہ کا اس کا اہتمام نہیں کیا گیا، کفن وغیرہ کا، ویسے ہی اس کو قبر میں ڈال دیا گیا۔ یہی چیز ملتی ہے اس میں، تو یہی ہونا چاہیے ان مشرکوں کے ساتھ۔
جب نبی علیہ السلام کے چچا کے ساتھ یہ ہوا، جس نے پوری طرح اسلام کی خدمت کی اور نبی کا ساتھ دیا اس معاملے میں، اس کے ساتھ یہ سلوک کیا گیا تھا، تو اب دوسرے مشرکوں کے ساتھ کیسے اس سے بہتر سلوک ہو سکتا ہے؟