:سوال
مرد مشرک ہے تو اس کی بیوی مومن ہے۔ اگر بیوی مر جائے تو کیا اس کا جنازہ مومن پڑھیں یا نہیں؟ مومن بیوی اپنے مشرک مرد سے طلاق نہ لے سکے، وضاحت سے بیان کریں، اگر کوئی مومن مرے اس عورت کوئی مومن اس عورت کا جنازہ پڑھے، پڑھ لے تو کیسا ہے؟
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
اصل میں بات یہ ہے کہ صحیح طریقہ تو یہی ہے کہ خاتون نے اس کا نکاح ہو گیا زمانہ جاہلیت میں، دونوں مشرک تھے، نکاح ہو گیا۔ اب اللہ تعالیٰ نے اس کو خاتون کو ایمان کی نعمت سے نوازا، تو اب اس کی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ شوہر کو بھی وہ ایمان کی دعوت دے اور بہتر سے بہتر طریقے سے ہر طرح سے، اور اپنی اس کی بیوی اور شوہر کے جو آپس کے تعلقات ہوتے ہیں، ایک دوسرے کے جذبات ہوتے ہیں، وہ اپنے شوہر کے مزاج کو سمجھتے ہوئے اس کو دعوت دے اور زور بھی ڈالے اس کو، ایک جو کہتے ہیں پرسوئیسیو پریشر (persuasive pressure)۔ ذرا زور دے کے ترغیب دی جائے، ایسی ترغیب جس میں زور بھی ہو اور تھوڑا سا کبھی کبھی دھمکی والا انداز بھی ہو۔ کبھی کبھی تھوڑا سا علیحدگی بھی اختیار کر لی جائے، ناراضگی میں تو ایسا تو ہوتا ہے گھریلو زندگی میں کبھی کبھی کوئی بات ناگوار ہوتی ہے بیوی کو تو وہ شوہر سے تھوڑی بہت علیحدگی کا رویہ اختیار کرتی ہے، ناراضگی کا ہوتا ہے وہ ویسا سلوک نہیں رہتا، تو اس سے شوہر کو ہوتی ہے پریشانی۔ تو اس طرح کا وہ انداز اختیار کرے جس کے اس کے اوپر اثر ہو، جس سے وہ بات کو وہ سنجیدگی کے ساتھ سنے، اگر اس نے سنجیدگی کے بعد ساتھ بات سن لی اور اللہ سے دعا بھی کرے تو ہو سکتا ہے اللہ تبارک و تعالیٰ توفیق دے۔ بہرحال، ہے تو یہی کہ اگر نہیں ہوتی ہے اس کو تو علیحدگی اختیار کر لی جائے۔
اب بعض ایسے مقامات ہیں جہاں قبائلی نظام بہت زیادہ ہوتا ہے اور وہ اپنی انا اور نفس کا مسئلہ اتنا ہوتا ہے، جاہلیت کی انتہا جیسے اس زمانے میں عرب قبیلوں میں ہوتا تھا اس طرح کا، تو وہاں مجبوری اضطراری کیفیت کے طور پر، تو اس کے لیے ہمارے سامنے یہی چیز ہے جیسے آسیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرعون کے ہاں تھیں، وہ جابر، ظالم بہت ہی زیادہ سفاک قسم کا انسان تھا، وہ اپنے اللہ سے دعا کرتی رہتی تھیں اپنے رب سے، مجبورا انہوں نے گزارا کیا اس کے ساتھ، لیکن بہرحال ان کے صبر کی وجہ سے اور ان کے ایمان پہ استقامت کی وجہ سے ان کا وہ مقام اللہ کے ہاں ہے۔
تو یہ ایک چیز ہے، اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی بھی ابو العاص کے ہاں تھیں، وہ بھی کافی عرصے رہی تھیں، بعد میں خیر ان کی علیحدگی ہو گئی اور وہ چلی آئی تھیں ہجرت کر کے مدینے، تو یہ سے یہ تو ملتا ہے کہ کچھ اس کی اس میں یہ ہے کہ مہلت ہے کچھ اور کوشش کر لی جائے اس میں۔ لیکن اگر ناامیدی ہو جائے تو اس کے بعد بہتر یہ ہے کہ اگر کچھ زیادہ فتنہ نہ ہو تو پھر علیحدگی اختیار کر لی جائے، بہتر طریقہ یہی ہے۔ بہرحال، وہ اگر اضطراری طور سے وہ فتنے کے اندیشے کے تحت وہ علیحدگی اختیار نہیں کر سکتی ہے، وہ چاہتی ہے علیحدگی لیکن نہیں کر سکتی، تو پھر یہ ہے کہ اگر وفات ہو جائے اس کی تو اس کی صلاۃ المیت تو ادا کر لینی چاہیے، وہ تو مومنہ ہے۔
اب خاتون جو ہے کمزور ہوتی ہے مرد کے مقابلے میں، مرد مشرکوں میں چلا جاتا ہے تو وہ اکثر و بیشتر ایسا دیکھا گیا ہے کہ وہ پھر انہی کے عقیدے کو، انہی کے دین کو اختیار کر لیتا ہے مرد بھی، باوجود یہ کہ مرد تو قوام ہوتا ہے رجال، رجال قوام ہوتے ہیں، لیکن پھر بھی وہ، تو اب خاتون تو نسبتاً بے بس ہوتی ہے کافی حد تک، کمزور جنس ہے، تو اس سے یہ توقع کرنا کہ وہ ایسا، بہرحال اگر اللہ تبارک و تعالیٰ اس کو ایمان کی ہمت دے ایسی، وہ کر لے تو شاید اس کے عورت اس کے شوہر پر بھی اس کا اثر پڑے، جیسے رميصاء رضی اللہ تعالیٰ عنہا، ام سلیم نے اپنے شوہر، ہونے والے شوہر جب اس نے نکاح کا پیغام دیا، طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے، انصاری نے، تو یہ بھی انصاریہ خاتون تھیں، مدینے ہی کی تھیں، ایمان ملا اللہ تعالیٰ نے ایمان دیا تو بہت ہی زیادہ مجاہدہ خاتون تھیں، پورا خاندان ان کا مجاہدہ تھا، ان کے بھائی، ان کے تمام رشتہ دار عزیز۔ تو انہوں نے اس سے یہی کہا کہ میں تمہارے ساتھ نکاح کروں گی؟ تم اپنے ہاتھ سے بناتے ہو اور اس کو اپنا مشکل کشا سمجھتے ہو، عقیدت کا اظہار کرتے ہو، اس کو پوجنے لگتے ہو تم۔ اللہ کی قسم! اگر تم ایمان لے آؤ تو پھر تم سے مہر بھی نہیں لوں گی، یہی میرا مہر ہو جائے گا۔ تو انہوں نے اس قسم کے جب ایسا جرات کا مظاہرہ کیا تو اس کا نتیجہ ہوا کہ اس کے اوپر اثر کیا دعوت نے اور وہ ایمان لے آئے اور بہترین تیر انداز تھے وہ۔
تو بہرحال، ان کی صلاۃ المیت تو پڑھ لینی چاہیے ایسا اگر ہو جائے۔