:سوال
اگر کوئی مومن ساری عمر کوئی نیک عمل نیک عمل کوئی نیک عمل نہیں کرتا، یعنی صلاۃ، صوم، زکوٰۃ وغیرہ نہیں ادا کرتا، اس میں تو روزہ نماز لکھا ہوا ہے تو صلاۃ صوم میں نے اس کو کیا ہے۔ صلاۃ، صوم، زکوٰۃ ادا نہیں کرتا، اس کے ہونے اس کے بارے میں اس کا جنازہ پڑھا جا سکتا ہے یا نہیں؟
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
دیکھئے اس کے جنازے سے پہلے اس سے بات کر لی جائے گی، سمجھا دیا جائے گا، اگر وہ زبان سے انکار کر دے ان کا ارکانِ اسلام کا، تو پھر اس کو کافر قرار دے دیا جائے گا۔ پھر اس کے صلاۃ ادا کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اور اگر وہ مان لے کہ ہاں میں میری یہ کمزوری ہے، میرے لیے دعا فرمائیے اور میں ان شاء اللہ اپنی اصلاح کروں گا، تو پھر ایسے حال میں اس کی وفات آ جائے تو ہم اس کو مومن ہی سمجھیں گے۔
ایک فاسق و فاجر سمجھیں گے، مومن سمجھیں گے۔ ویسے حدیث میں تو یہ ملتا ہے کہ “مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ كَفَرَ” جس نے عمداً صلاۃ تارک جو عمداً صلاۃ کا تارک ہوا، وہ کافر ہو گیا، اس نے کفر کیا۔ اس نے کفر کیا۔ ترک الصلاۃ جو ہے یہ کفر کہا گیا ہے۔ تو اس لحاظ سے اس کو کافر قرار دیا جا سکتا ہے، مگر اس میں فقہاء نے یہی اس میں کہا، اس میں اختلاف صحابہ میں بھی کچھ اس کے بارے میں کہ کافر تو وہی ہے جو قرآن کی کسی آیت کا انکار کرے یا کسی رکنِ اسلام کا انکار کرے۔ صرف ترک جو ہے یہ عمل کی کمزوری ہے اور اس سے فسق اور فجور کا جو ہے وہ اس کا لازمہ ہوتا ہے۔