:سوال
اگر کسی شخص کے اصل دانت ٹوٹ گئے ہوں یا اس نے نکلوا دیے ہوں اور اس کی جگہ دوسرے دانت فکس لگوا لے تو کیا اس کا وضو اور غسل مکمل ہوگا یا نہیں؟ کیوں نہیں؟
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
اس میں دوسرے دانت فکس لگوا لے تو کیا حرج ہے اس میں؟ ہمیں تو بھئی اس میں کوئی اشکال نہیں معلوم ہوتا ہے۔ فکس لگوا لیں یا وہ نکل سکتے ہیں ایسے لگوا لیں۔پانی نہیں جائے گا؟ نہیں، اس میں تو اگر ویسے بھی آپ کے دانت ہیں، تو دانتوں کے اندر پانی تو نہیں جاتا ہے، دانتوں کو۔ نہیں، وہ اس کے جبڑے کے اوپر ہی دانت لگتے ہیں جو فکس بھی ہوتے ہیں نا تو جیسے پہلے دانت ہوتے ہیں اسی طرح فکس ہو جاتے ہیں۔ باقی یہ ہے کہ جو نکل سکتے ہیں، وہ تو اس میں تو کوئی پریشانی نہیں ہے آپ اس کو نکال کے اور ان کو بھی صاف کر لیں اور پھر ویسے کلی کر لیں آپ تو چلے وہ ہر جگہ پانی پہنچ جائے گا مسوڑوں وغیرہ میں۔ لیکن یہ ہے کہ اگر فکس ہیں دانت تو اس میں آپ جو جیسی بھی صورتحال ہو، اس صورتحال میں اگر اس کے اندر پانی نہیں جائے گا تو کوئی اور چیز بھی نہیں جائے گی اس میں ایسی جس کو دھونا ضروری ہو، تو اس لیے اس کا دھونا بھی ضروری نہیں ہے، ٹھیک ہے نا؟ اب وہ تو اس کا حصہ ہو گیا نا آپ کے جبڑے کا۔
ایک جو فکس دانت لگتا ہے، وہ آپ کے جبڑے کا حصہ ہو گیا۔ تو اس کے اندر کوئی چیز جائے گی نہیں، اس کو پھر دھونا بھی ضروری نہیں ہے، جتنا حصہ اس کا جہاں جہاں پانی پہنچ جاتا ہے، اتنے ہی حصے کا غسل جو ہے اس کا دھونا ضروری ہے۔ تو ٹھیک ہے بالکل، غسل بھی صحیح، اس کا ہاں۔ نہیں، اب اس کی تحقیق کر لیجیے اور جب تک تحقیق نہ ہو کہ اس کے اندر کوئی ایسی نجس اور ناپاک چیز نہیں ہے تو پھر خواہ مخواہ پریشانی کی اس میں بات نہیں ہے۔ یہ خواہ مخواہ یہ اصل میں شک اور شبہے یہ شیطان وسوسے ڈالتا ہے، یہ ہمارا طریقہ نہیں ہے، ہاں۔ اسی طرح لوگ صابن کے بارے میں بھی کہتے ہیں اور چیزوں کے بارے میں، جب تک کہ کوئی یقینی حتمی تحقیق نہ ہو، اس وقت تک ہمیں ان چکروں میں نہیں پڑنا چاہیے وسوسے اور شک و شبہے والے۔ ابھی تک اس کی کوئی ایسی تحقیق کرنے والوں نے تحقیق کبھی پیش نہیں کی ہے ورنہ اخباروں میں تو ہر چیز کی آ جاتی ہے تحقیق۔