کوئی مومن ساتھی طاغوت کا پوری طرح سے رد نہیں کرتا، ساتھیوں کا اس سے رویہ کیسا ہو؟

:سوال

​​​​ کوئی مومن ساتھی طاغوت کا پوری طرح رد نہیں کرتا، دوسرے ساتھیوں کا رویہ کیسا ہونا چاہیے؟

: جواب از محمد حنیف صاحبؒ

جب تک کہ وہ طاغوت کا پوری طرح رد نہیں کرتا اور طاغوت سے مجتنب نہیں اور بیزاری اور نفرت کا اظہار نہیں کرتا، تو اس کا ایمان ایمان نہیں ہے۔

​اس تنظیم کا تو موقف ہی ہے کہ وہ مومن بنتا ہے جو داخل ہوتا ہے، قدم رکھتا ہے پہلا، طاغوت کا مکمل طور سے کفر کر کے اس سے بیزاری اور نفرت کا اعلان کر کے سنتِ ابراہیمی کے مطابق، جب اس کا ایمان قابلِ اعتبار ہے، ورنہ نہیں۔ اور پھر اس کے بعد اس کا عمل ثابت کرتا ہے کہ اس نے جو زبان سے اقرار کیا ہے کہاں تک وہ اس پر عمل پیرا ہے۔

​اس کا اس کا عمل، اس کی شکل و صورت، اس کے شب و روز، اس کی تقریبات، شادی بیاہ، تمام چیزیں جو ہیں سنت کے مطابق ہوں اور فیشن پرستی اس کے مطابق نہ ہوں، اس سے مخالف ہوں۔

​تو یہ ہونا چاہیے۔ جب تک کہ ایسا نہیں کر سکتا ہے تو ایمان اس کا پورا قابلِ قبول نہیں ہے۔

تلاش کریں