:سوال
سوال یہ ہے کہ کیا مرتد سے لین دین رکھ سکتے ہیں؟
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
دیکھیے، مرتد جو ہے وہ تو واجب القتل ہوتا ہے اسلام کے اندر۔ شریعتِ مطہرہ میں اس کی سزا موت ہے۔ جب وہ مرتد ہو گیا تو اس سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں رکھا جا سکتا، نہ اس سے کوئی کاروباری تعلق، نہ اس سے کوئی لین دین، نہ اس سے کوئی رشتہ داری، کچھ بھی نہیں رکھا جا سکتا۔ وہ تو بالکل اسلام سے خارج ہو گیا اور اس کی سزا قتل ہے۔ تو اس لیے مرتد کے ساتھ کسی بھی قسم کے دنیاوی یا کاروباری معاملات کرنے کی بالکل اجازت نہیں ہے۔
ہاں، البتہ اگر کوئی عام کافر ہے، جیسے یہودی ہیں، عیسائی ہیں، یا کوئی اور غیر مسلم ہے، تو ان کے ساتھ شریعت نے بعض حدود میں رہتے ہوئے لین دین اور تجارت کی اجازت دی ہے، جیسے نبی علیہ السلام نے بھی غیر مسلموں سے معاملات کیے ہیں۔ لیکن مرتد کا معاملہ ان سے بالکل الگ ہے، کیونکہ وہ اسلام لانے کے بعد پھر کفر کی طرف لوٹا ہے، اس لیے اس کے لیے سخت ترین احکامات ہیں۔ لہٰذا مرتد سے کسی قسم کا کوئی لین دین یا تعلق نہیں رکھا جا سکتا۔