:سوال
آپ لوگ فاتحہ خوانی کیوں نہیں کرتے؟
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
یہ بات بالکل غلط ہے۔ ہم تو ہر صلاۃ (نماز) کے اندر فاتحہ پڑھتے ہیں، بلکہ فاتحہ کے بغیر تو صلاۃ ہی نہیں ہوتی۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا: لَا صَلَاۃَ لِمَنْ لَمْ یَقْرَاْ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ (صحیح بخاری:جلد اول:اذان کا بیان:حدیث نمبر 727) صلاۃ نہیں ہوتی اس شخص کی جو فاتحہ نہیں پڑھتا ہے۔ تو صلاۃ کے اندر تو ہم بار بار ہر رکعت میں فاتحہ پڑھتے ہیں، فرض میں بھی، نفل میں بھی، سب میں پڑھتے ہیں۔ باقی یہ کہ مردوں کے لیے، ایصالِ ثواب کے لیے، وہ طریقہ اختیار کرنا جو نبی علیہ السلام سے، صحابہ کرام سے ثابت نہیں ہے، وہ درست نہیں ہے۔
نبی علیہ السلام کی حیاتِ مبارکہ میں آپ کے کتنے ہی رشتہ دار، آپ کی بیٹیاں، آپ کی زوجہ محترمہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، آپ کے چچا حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اور کتنے ہی جلیل القدر صحابہ کرام شہید ہوئے، فوت ہوئے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کے لیے اس طرح سے بیٹھ کر، کھانا سامنے رکھ کر یا ویسے ہی اجتماعی طور پر کوئی دن مقرر کر کے (جیسے تیسرا دن، دسواں دن یا چالیسواں دن ہوتا ہے) فاتحہ خوانی نہیں فرمائی۔ صحابہ کرام کا بھی یہی طریقہ رہا کہ انہوں نے کبھی اس طرح سے فاتحہ خوانی نہیں کی۔
مردوں کے لیے جو چیز ثابت ہے، وہ ہے ان کے لیے استغفار کرنا، ان کے لیے دعا کرنا، ان کی طرف سے صدقہ و خیرات کرنا، یا اگر ان کے ذمے کوئی حج یا روزے رہ گئے ہوں تو وہ ادا کرنا۔ یہ وہ طریقے ہیں جو شریعتِ مطہرہ سے ثابت ہیں اور ان کا ثواب مردوں کو پہنچتا ہے۔ لہٰذا، دین کے اندر اپنی طرف سے کوئی طریقہ ایجاد کرنے کے بجائے اسی طریقے پر عمل کرنا چاہیے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ سے ثابت ہے۔