کیا امت کا اتحاد صرف قرآن و سنت سے ممکن ہے؟
امت کے اتحاد کی اصل بنیاد صرف اور صرف قرآن و سنت ہیں۔ کیونکہ اگر اس سے ہٹ کر کوئی
امت کے اتحاد کی اصل بنیاد صرف اور صرف قرآن و سنت ہیں۔ کیونکہ اگر اس سے ہٹ کر کوئی
جی ہاں، عقائد میں نرمی اور سمجھوتہ کرنا فتنہ اور گمراہی کا دروازہ ہے، کیونکہ دین کی بنیاد ہی صحیح
جی ہاں، اختلاف کے باوجود اتحاد ممکن ہے، لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب اختلاف اجتہادی یا فروعی مسائل میں
جی، دعوتِ دین کا آغاز ہمیشہ توحید سے ہونا چاہیے۔ یہی انبیاء علیہم السلام کی سنت ہے اور اسی پر
نہیں، صرف نیت سے عمل درست نہیں ہو جاتا بلکہ اس کے ساتھ عمل کا شریعت کے مطابق ہونا بھی
جی، امت کا سب سے بڑا زوال عقیدہ کی کمزوری اور توحید سے انحراف کے سبب ہے۔ جب ایمان کی
اگر عقیدہ درست نہ ہو تو اعمال اللہ کے ہاں مقبول نہیں ہوتے۔ قرآن نے صاف فرمایا وَقَدِمْنَا إِلَىٰ مَا
جی ہاں، ختمِ نبوت کا انکار صریح کفر ہے۔ اسلام کی بنیاد اس عقیدے پر ہے کہ محمد ﷺ آخری
نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ قرآن اور صحیح احادیث میں آیا ہے، یہ علاماتِ قیامت میں سے ایک ہے۔
امام مہدی کا قرآنِ کریم سے ثابت نہیں ہے، اور صحیح احادیث میں بھی اس کی مستند و واضح بنیاد