کیا عقیدہ خراب ہو تو اعمال قبول ہوتے ہیں؟

اگر عقیدہ درست نہ ہو تو اعمال اللہ کے ہاں مقبول نہیں ہوتے۔ قرآن نے صاف فرمایا

وَقَدِمْنَا إِلَىٰ مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاهُ هَبَاءً مَنْثُورًا
(الفرقان: 23)
اور ہم ان کے تمام اعمال کی طرف متوجہ ہوں گے، پھر ہم انہیں اڑتی ہوئی دھول بنا دیں گے۔

یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں ہے جن کا ایمان اور عقیدہ درست نہ تھا، چاہے اعمال کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں۔

اس سے واضح ہے کہ ایمان اور صحیح عقیدہ، اعمال کی قبولیت کی بنیاد ہے۔ اگر بنیاد (عقیدہ) کمزور یا باطل ہو تو اعمال خواہ جتنے ہوں، اللہ کے ہاں ان کی کوئی قدر نہیں۔

تلاش کریں