کیا امت کا اتحاد صرف قرآن و سنت سے ممکن ہے؟

امت کے اتحاد کی اصل بنیاد صرف اور صرف قرآن و سنت ہیں۔ کیونکہ اگر اس سے ہٹ کر کوئی اور معیار بنایا جائے تو وہ گروہ بندی اور فرقہ پرستی کو جنم دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے
وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا
اور اللہ کی رسی (قرآن) کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ نہ ڈالو۔ (آل عمران: 103)

یہاں صاف اعلان ہے کہ اتحاد صرف اللہ کی رسی (یعنی قرآن و سنت) پر جمع ہونے سے قائم رہتا ہے، نہ کہ نسب، سیاست یا قومیت پر۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا
تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّتِي
میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک انہیں مضبوطی سے تھامے رہو گے کبھی گمراہ نہ ہو گے اللہ کی کتاب اور میری سنت۔
(موطا امام مالک، حدیث 1395)

اس سے واضح ہے کہ امت کا حقیقی اتحاد، عقیدہ اورعمل دونوں میں، صرف قرآن و سنت کی اتباع سے ممکن ہے۔ اگر امت قرآن و سنت کو چھوڑ کر اپنی رائے، فرقے یا تقلید پر جمع ہوگی تو وہ بظاہر اکٹھی نظر آئے گی مگر حقیقت میں منتشر اور کمزور ہوگی۔

امت کا اتحاد سیاست، قوم یا مفاد سے نہیں، بلکہ صرف قرآن و سنت سے وابستگی سے ہی ممکن ہے۔

تلاش کریں