نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ قرآن اور صحیح احادیث میں آیا ہے، یہ علاماتِ قیامت میں سے ایک ہے۔ فرمایا کہ
وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ ۚ هَـٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ
اور بے شک وہ (عیسیٰ علیہ السلام) قیامت کی نشانی ہیں، سو اس میں شک نہ کرو اور میرا ہی اتباع کرو، یہی سیدھا راستہ ہے۔
(الزخرف: 61)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا عَدْلًا فَيَكْسِرَ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلَ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعَ الْجِزْيَةَ وَيَفِيضَ الْمَالُ حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ حَتَّى تَكُونَ السَّجْدَةُ الْوَاحِدَةُ خَيْرًا مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ { وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا }
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! عنقریب تم میں ابنِ مریم (عیسیٰ علیہ السلام) عادل حاکم بن کر نازل ہوں گے، پھر صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ موقوف کر دیں گے، اور مال اس قدر کثرت سے ہوگا کہ اسے قبول کرنے والا کوئی نہ ہوگا، یہاں تک کہ ایک سجدہ دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے بہتر ہوگا۔پھر ابو ہریرہ نے فرمایا اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا۔اور اہلِ کتاب میں سے کوئی ایسا نہ ہوگا مگر وہ ان (عیسیٰ علیہ السلام) کی وفات سے پہلے ان پر ایمان لے آئے گا، اور قیامت کے دن وہ ان پر گواہ ہوں گے۔
صحيح البخاري – كتاب أحاديث الأنبياء – باب نزول عيسى ابن مريم عليهما السلام: 3448
یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ہے۔ نزولِ عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان رکھنا قرآنی خبر و نبوی پیشن گوئی اور علاماتِ قیامت پر ایمان کا حصہ ہے اسکا انکار کفر ہے دائرہ اسلام سے نکال دیتا ہے۔