کیا مسلک کو چھوڑنا دین سے انحراف ہے؟
مسلک سے مراد وہ الگ الگ جمودی گروہ بندی ہے جو بعد کے زمانوں میں پیدا ہوئی، تو اسے چھوڑنا
مسلک سے مراد وہ الگ الگ جمودی گروہ بندی ہے جو بعد کے زمانوں میں پیدا ہوئی، تو اسے چھوڑنا
جی، بالکل۔ فرقہ پرستی سے نجات صرف قرآن و صحیح حدیث سے ممکن ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نےوحی ہی کو
تقلید فرقہ بندی کا بڑا سبب ہے۔ جب لوگ قرآن و سنت کی دلیل طلب کئے بغیر صرف اپنے امام
اجتہادی اختلاف فرقہ نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاإِذَا اجْتَهَدَ الحَاكِمُ فَأَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا اجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌجب
جی، قرآن و سنت کی روشنی میں جنت صرف ایک ہی جماعت کو ملے گی، اور وہ جماعت وہ ہے
جی، فرقہ بندی محض ایک سماجی تقسیم نہیں بلکہ دین کے بنیادی اصول سے انحراف ہے، اس لیے یہ کفر
73 فرقوں والی حدیث اصلًا صحیح ہے، اگرچہ بعض روایات میں الفاظ کے فرق اور اسانید کے درجات مختلف ہیں۔
جی ہاں، ہر فرقہ اپنے آپ کو حق پر سمجھتا ہے، لیکن حق وہی ہے جو قرآن و سنت اور
خوارج کا فتنہ دراصل وہی پرانا رویہ ہے جو دین کے نام پر دین کے ماننے والوں ہی کو کافر
امام کا صحیح العقیدہ ہونا شرط ہے۔ اگر امام کا عقیدہ مشکوک یا باطل ہو (شرک، بدعت، یا اہل قبور