جی، بالکل۔ فرقہ پرستی سے نجات صرف قرآن و صحیح حدیث سے ممکن ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نےوحی ہی کو ہدایت، فرقان اور اتحاد کا ذریعہ بنایا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا
وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا
تم سب مل کر اللہ کی رسی (قرآن) کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ نہ ڈالو۔
(آل عمران: 103)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ، لَنْ تَضِلُّوا مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّتِي
میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک تم انہیں تھامے رکھو گے ہرگز گمراہ نہ ہوگے اللہ کی کتاب اور میری سنت۔
(موطا مالک، حدیث 1594)
لہٰذا فرقہ پرستی کا علاج نہ تقلید ہے، نہ فلسفہ، بلکہ صرف قرآن و سنت کی پیروی ہے۔ جو اس کو تھام لے گا وہی نجات پائے گا۔