جی، قرآن و سنت کی روشنی میں جنت صرف ایک ہی جماعت کو ملے گی، اور وہ جماعت وہ ہے جو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہؓ کے طریقے پر قائم ہو۔ باقی سب گروہ خواہ اپنے آپ کو حق پر سمجھیں، وہ حقیقت میں باطل پر ہیں۔ فرمایا کہ
وَأَنَّ هَـٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ
اور بے شک یہی میرا سیدھا راستہ ہے، پس اسی کی پیروی کرو، اور دوسری راہوں پر نہ چلو کہ وہ تمہیں اللہ کے راستے سے الگ کر دیں۔ الأنعام: 153
اللہ نے واضح کر دیا کہ سیدھی راہ ایک ہی ہے، باقی سب گمراہی ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أُمَّتِي مَا أَتَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ حَذْوَ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ ، حَتَّى إِنْ كَانَ مِنْهُمْ مَنْ أَتَى أُمَّهُ عَلَانِيَةً لَكَانَ فِي أُمَّتِي مَنْ يَصْنَعُ ذَلِكَ ، وَإِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرَّقَتْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً ، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً ، كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَاحِدَةً. قَالُوا: وَمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي
میری امت پر بھی وہی کچھ ضرور آئے گا جو بنی اسرائیل پر آیا تھا، بالکل ایسے جیسے ایک جوتا دوسرے جوتے کے برابر ہوتا ہے، یہاں تک کہ اگر ان میں کوئی شخص علانیہ اپنی ماں سے بدکاری کرتا تھا تو میری امت میں بھی ایسے لوگ ہوں گے جو یہ کام کریں گے۔ اور بنی اسرائیل بہتر (72) فرقوں میں بٹ گئے تھے، جبکہ میری امت تہتر (73) فرقوں میں بٹ جائے گی، ان میں سے ایک کے سوا سب جہنم میں ہوں گے۔صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ ایک گروہ کون سا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:وہ جو اس راستے پر ہوگا جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔ (مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي)۔
جامع الترمذي – أبواب الإيمان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم – ما جاء في افتراق هذه الأمة:2641
یعنی نجات صرف ایک جماعت کے لیے ہے، اور وہی جنتی ہے، باقی سب گروہ آگ میں ہیں۔
لہٰذا جنت کا وعدہ سب کے لیے نہیں، بلکہ صرف اس جماعت کے لیے ہے جو قرآن و سنت اور فہمِ صحابہؓ کو مضبوطی سے تھامے رکھے۔