تقلید فرقہ بندی کا بڑا سبب ہے۔ جب لوگ قرآن و سنت کی دلیل طلب کئے بغیر صرف اپنے امام یا بزرگ کے اقوال کو دین مان لیتے ہیں تو یوں امت ٹکڑوں میں بٹ جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا
إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ
یقیناً جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کیا اور گروہ گروہ بن گئے، آپ ﷺ کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔
(الانعام: 159)
مزید فرمایا
اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَهًا وَاحِدًا لَّا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ
انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیا، اور مسیح ابن مریم کو بھی، حالانکہ انہیں حکم یہ دیا گیا تھا کہ صرف ایک ہی معبود کی عبادت کریں، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ پاک ہے ان کے شرک سے۔
(التوبہ: 31)
عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میری گردن میں سونے کی صلیب لٹک رہی تھی، آپ نے فرمایا: ”عدی! اس بت کو نکال کر پھینک دو، میں نے آپ کو سورۃ برأۃ کی آیت: اتخذوا أحبارهم ورهبانهم أربابا من دون الله ”انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور راہبوں کو معبود بنا لیا ہے“ (التوبہ: ۳۱)، پڑھتے ہوئے سنا۔ آپ نے فرمایا: ”وہ لوگ ان کی عبادت نہ کرتے تھے، لیکن جب وہ لوگ کسی چیز کو حلال کہہ دیتے تھے تو وہ لوگ اسے حلال جان لیتے تھے، اور جب وہ لوگ ان کے لیے کسی چیز کو حرام ٹھہرا دیتے تو وہ لوگ اسے حرام جان لیتے تھے۔
(سنن ترمذي:كتاب تفسير القرآن :حدیث: 3095)
رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ علماء و مشائخ کو رب اس طرح بناتے تھے کہ ان کی حلال کی ہوئی چیز کو حلال مانتے اور حرام کی ہوئی چیز کو حرام مانتے، حالانکہ یہ حق صرف اللہ کا ہے۔
اسی طرح آج جب لوگ قرآن و سنت کو چھوڑ کر اپنے علماء یا امام کے اقوال کو دین مانتے ہیں تو وہ دراصل انہیں رب بنانے کے مترادف ہے، اور یہی فرقہ بندی و تقلید کی جڑ ہے۔ لہٰذا جب اصل بنیاد وحی نہ ہو بلکہ تقلید ہو تو دین ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔