کیا اسلام کے اصول جدید دور میں تبدیل ہو سکتے ہیں؟
اسلام کے اصول اللہ کی وحی پر مبنی ہیں، جو ہمیشہ کے لیے کامل اور محفوظ ہیں۔ اصول کبھی تبدیل
اسلام کے اصول اللہ کی وحی پر مبنی ہیں، جو ہمیشہ کے لیے کامل اور محفوظ ہیں۔ اصول کبھی تبدیل
فلسفۂ وحدت الوجود دراصل یہ تصور پیش کرتا ہے کہ کائنات کی ہر شے اللہ ہی ہے یا اللہ میں
دین تصوف کو اسلامی فلسفہ کہنا کفر ہے، بلکہ یہ دراصل دین میں ایک داخل شدہ بدعت ہے جو اسلام
جی ہاں، مغربی فلسفہ اپنی بنیاد میں اسلامی عقائد سے متصادم ہے، کیونکہ اس کی جڑ عقل اور مادہ پرستی
جی ہاں، اسلام فطرت پر مبنی دین ہے، کیونکہ یہ اللہ کی طرف سے اتری ہوئی وہ ہدایت ہے جو
عقیدہ صرف عقلی بنیادوں پر قائم نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ایمان کا اصل ماخذ وحی ہے۔ عقل اللہ کی
دین میں سائنس کو معیار نہیں بنایا جا سکتا، کیونکہ دین کا ماخذ وحی ہے، اور وحی قطعی موقف ہے،
عقلی دلائل سے توحید کو سمجھایا اورواضح کیا جا سکتا ہے، مگر توحید کا اصل ثبوت اللہ کی کتاب اور
بعض صوفیاء اور فرقوں میں اذنِ خاص کا عقیدہ رائج ہے، یعنی یہ دعویٰ کہ اللہ یا رسول ﷺ کی
مروجہ عملیات سے مراد وہ ٹونے ٹوٹکے، تعویذ گنڈے اور وظائف ہیں جو عوام میں دین کے نام پر رائج