فلسفۂ وحدت الوجود دراصل یہ تصور پیش کرتا ہے کہ کائنات کی ہر شے اللہ ہی ہے یا اللہ میں فنا ہو کر اس کا حصہ ہے۔ یہ عقیدہ سراسر قرآن اور توحید کے منافی ہے۔
قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ
کہہ دو وہ اللہ ایک ہے، اللہ سب سے بے نیاز ہے، نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا، اور نہ ہی کوئی اس کا ہمسر ہے۔
(الاخلاص 1-4)
یہ اعلان واضح کر دیتا ہے کہ اللہ اپنی ذات میں یکتا ہے، مخلوق سے جدا ہے، اور کسی شے میں حلول نہیں کرتا۔ وحدت الوجود کا عقیدہ اللہ اور بندے کے درمیان فرق مٹا دیتا ہے، جبکہ قرآن بندگی اور ربوبیت کے درمیان واضح خط کھینچتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَدْعُو مِنْ دُونِ اللهِ نِدًّا دَخَلَ النَّارَ . وَقُلْتُ أَنَا: مَنْ مَاتَ وَهُوَ لَا يَدْعُو لِلهِ نِدًّا دَخَلَ الْجَنَّةَ
جو شخص اس حال میں مرے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرا کر اسے پکارتا ہو، وہ جہنم میں داخل ہوگا۔اور عبد اللہ بن مسعود نے فرمایا:اور میں کہتا ہوں: جو شخص اس حال میں مرے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، وہ جنت میں داخل ہوگا۔
صحيح البخاري – كتاب تفسير القرآن – سورة البقرة – باب قوله ومن الناس من يتخذ من دون الله أندادا: 4497
یہ حدیث بتاتی ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا یا اس کے مقام میں کسی کو شامل کرنا شرک ہے، خواہ وہ کسی فلسفہ کے لبادے میں کیوں نہ ہو۔ اسلام کا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ خالق ہے اور باقی سب مخلوق۔ فلسفۂ وحدت الوجود اللہ کی الوہیت اور مخلوق کی عبودیت کو خلط ملط کرتا ہے، اس لیے یہ قرآن و سنت کے بالکل متصادم اور کفر کی راہ ہے۔