دین تصوف کو اسلامی فلسفہ کہنا کفر ہے، بلکہ یہ دراصل دین میں ایک داخل شدہ بدعت ہے جو اسلام کے خالص عقائد سے متصادم ہے۔ اسلام کا اصل ماخذ قرآن و سنت ہے، جبکہ فلسفیانہ اور صوفیانہ طریقے اللہ سے اور اسکے دین اسلام سے ذبردستی جوڑے جارہے ہیں۔ تصوف نے اللہ کے ساتھ وسیلے، کرامات، وحدت الوجود، وحدت الشہود، حلول جیسے عقائد گھڑ کر توحید کو مجروح کیا، اور یہ سراسر گمراہی اور کفر کی راہیں ہیں۔
اللہ کا دوٹوک بیان ہے کہ
قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْاِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَاَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَي اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ
کہہ دو میرے رب نے بے حیائیوں کو حرام کیا ہے خواہ وہ ظاہر ہوں یا چھپی ہوئی، اور گناہ اور ناحق زیادتی کو بھی، اور یہ کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراؤ جس کی کوئی دلیل اللہ نے نازل نہیں کی، اور یہ کہ تم اللہ پر وہ بات کہو جس کا تمہیں علم نہیں۔
(الأعراف: 33)
صوفیانہ فلسفہ دراصل اللہ پر ایسی باتیں کہنے کا نام ہے جن کی کوئی سند وحی میں نہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جس نے نصرانوں کو مسلم سے ہٹا کر راہب اور پادری بنا دیا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ فِيهِ فَهُوَ رَدٌّ
جس نے ہمارے دین میں کوئی نئی چیز نکالی جو اس میں سے نہیں ہے تو وہ مردود ہے۔
صحيح البخاري – كتاب الصلح – باب إذا اصطلحوا على صلح جور فالصلح مردود:2697
اسلام وحی پر مبنی دین ہے، اور تصوف جیسی خود ساختہ راہیں بدعت اور کفر ہیں۔ جو شخص قرآن و سنت چھوڑ کر تصوف کو معیار بناتا ہے، وہ دراصل اللہ کے بجائے انسانوں کے گھڑے ہوئے فلسفے کا پیروکار ہے۔