مروجہ عملیات سے مراد وہ ٹونے ٹوٹکے، تعویذ گنڈے اور وظائف ہیں جو عوام میں دین کے نام پر رائج ہیں مگر ان کی بنیاد قرآن و سنت پر نہیں۔ عوام ان کو دین کا حصہ سمجھ لیتے ہیں جبکہ حقیقت میں یہ زیادہ تر بدعت یا شرک کی صورت اختیار کرتے ہیں۔
قرآن میں اللہ نے سول اللہ ﷺ نے اعلان کروایا کہ کہہ دیں کہ
وَأَنَّ هَٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ
اور یہ میرا سیدھا راستہ ہے، اسی پر چلو اور دوسری راہوں پر نہ چلو ورنہ وہ تمہیں اس کے راستے سے ہٹا دیں گی۔
(الأنعام 153)
یہ آیت واضح کر رہی ہے کہ شریعت کے مقررہ اعمال کے علاوہ خود ساختہ عملیات دین کا راستہ نہیں، بلکہ گمراہی کی راہیں ہیں۔ اور مروجہ عملیات میں اکثر ایسے کلمات پڑھے جاتے ہیں جن کی اصل قرآن و حدیث سے نہیں ملتی، یا غیر اللہ کو پکارا جاتا ہے۔ یہ صریح شرک ہے۔ اسی طرح بے بنیاد وظائف کو دین بنا لینا بدعت ہے، اور بدعت ہر حال میں ضلالت ہے۔
یہی غلطی بنی اسرائیل نے کی کہ انہوں نے اپنے ربانیوں کے گھڑے ہوئے طریقوں کو دین سمجھ لیا، یہاں تک کہ اصل شریعت ان سے کھو گئی۔ آج کے مروجہ عملیات بھی امت کو اسی طرح قرآن و سنت سے دور کر دیتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ فِيهِ فَهُوَ رَدٌّ
جس نے ہمارے دین میں کوئی نیا کام ایجاد کیا جو اس میں نہیں تھا، وہ مردود ہے۔
صحیح بخاری: كتاب الصلح: باب إذا اصطلحوا على صلح جور فالصلح مردود: 2697
یہ اصولی حدیث ہر بدعت اور مروجہ غیر شرعی عملیات کو باطل قرار دیتی ہے۔ کیونکہ ان کی اصل نہ قرآن ہے نہ سنت۔ شریعت نے اذکار، دعائیں اور قرآن کی تلاوت کے ذریعے حفاظت، شفاء اور برکت کے طریقے مقرر کیے ہیں۔ بندے کو انہی پر اکتفا کرنا چاہیے۔ غیر شرعی عملیات گمراہی، شرک اور بدعت کا ذریعہ ہیں۔