ہاتھ اٹھانا قرآن و حدیث سے ثابت ہے یا نہیں؟

:سوال

ہاتھ اٹھانا قرآن و حدیث سے ثابت ہے یا نہیں؟

: جواب از محمد حنیف صاحبؒ

جی نہیں، قرآن سے تو اصل میں ہاتھ اٹھانے کا ذکر نہیں ہے۔ قرآن میں تو صرف یہ ہے “وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ”۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا کہ جو کچھ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں دین دیا ہے، دین عطا کیا ہے، اس کو لو اس پر عمل کرو۔ اور جس سے منع کیا ہے، جو عمل انہوں نے خود نہیں کیا ہے یا کرنے سے روکا ہے، اس سے باز رہو، اس کو نہ کرو۔ اور یاد رکھو، اگر تم اس سے نافرمانی کرو گے اس کی، تو اللہ تعالیٰ شدید عذاب سے تمہیں دوچار کرے گا۔ تو یہ تو قرآن میں بتایا گیا ہے۔

​اور حدیث میں یہی آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرنے کے بعد اللہ اکبر، استغفر اللہ، استغفر اللہ، استغفر اللہ، اللہم انت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذا الجلال والاکرام۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت میں آتا ہے کہ نبی علیہ السلام مصلے پر اتنی دیر بیٹھتے تھے کہ یہ پڑھ لیں اور اس کے بعد جگہ چھوڑ دیتے۔ پھر دوسرے اذکار آپ بعد میں کرتے تھے دوسری جگہ۔ کون سی صلاۃ میں؟ ظہر میں، مغرب میں اور عشاء میں۔ جس میں فرض کے بعد سنتیں ہوتی ہیں، اس میں آپ جگہ چھوڑ دیتے تھے۔ اور فجر اور عصر میں وہیں بیٹھتے تھے مقتدیوں کی طرف رخ کر کے۔ فجر میں خواب کی تعبیر بتاتے تھے اور عصر میں معاملات کے فیصلے کرتے تھے اور سوالوں کے جواب دیتے تھے، مسائل کے حل ہوتے تھے۔ یا کہیں کوئی فوجی دستہ بھیجنا ہوتا تھا تو اس کو بھیجا جاتا تھا۔

​تو یہ آپ کا معمول تھا۔ اسی لیے محدثین نے حدیث کے اندر باب باندھے ہیں: دعا فی الصلاۃ والذکر بعد السلام۔ یا ذکر بعد السلام۔ یہاں یعنی جتنی دعائیں ہیں، وہ سب صلاۃ کے اندر ہیں۔ صلاۃ کے اندر دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ سب سے زیادہ فرض صلاۃ کے اندر اور اس کے بعد تہجد کی صلاۃ کے اندر۔ ساری دعائیں صلاۃ میں مانگی جاتی ہیں اور وہ دعائیں محدثین نے بیان بھی کی ہیں، جو آخری تشہد میں، آخری قاعدے میں سلام پھیرنے سے پہلے مانگی جاتی ہیں دعائیں۔

​ذکر بعد السلام، سلام پھیرنے کے بعد صلاۃ کے بعد ذکر ہے۔ وہ ذکر بھی جس کی ابتدا ہوتی ہے اللہ اکبر سے۔ اس کے بعد استغفر اللہ، اللہم انت السلام، پھر اپنی جگہ پہنچ کر آپ جتنے بھی اذکار کریں، 33، 33 مرتبہ والے اذکار کریں یا توحیدی اذکار، ذکر ہے: لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد، یحیی ویمیت وہو علی کل شیء قدیر۔ اللہم لا مانع لما اعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذا الجد منک الجد۔ اور دوسرے 33، 33 مرتبہ والے سبحان اللہ، الحمد للہ، اللہ اکبر، وغیرہ۔ تو یہ سارے اذکار جو ہیں، یہ صلاۃ کے بعد ہیں۔ یہی باب محدثین نے باندھا ہے۔

​ہاتھ اٹھانا، یہ بالکل ثابت نہیں ہے۔ بخاری کی روایت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ “كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي مِنْ صَلَاتِهِ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ”۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلاۃ میں کبھی دعا کے لیے کسی بھی دعا کے لیے ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے، سوائے استسقاء کے۔ اور اس میں اتنے اٹھاتے تھے “حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ” کہ آپ کی بغل کی سفیدی نظر آتی تھی، بغلوں کی سفیدی نظر آ جاتی تھی، اتنے ہاتھ اٹھاتے تھے۔ تو حدیث سے یہی ثابت ہے کہ جو بارش کے لیے صلاۃ ادا کی جاتی ہے، اس میں ہاتھ اٹھائے جاتے ہیں اور کسی صلاۃ میں سلام پھیر کے ہاتھ اٹھانے کا حدیث میں نہیں ملتا ہے۔ اور انفرادی طور سے بھی نفل وغیرہ میں بھی ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے کا نہیں ملتا ہے۔

تلاش کریں