:سوال
مومن کا سیرت و کردار گھر میں، محلے میں کیسا ہونا چاہیے؟
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بھی کوئی پہلو انسانوں کی زندگی کا خالی نہیں چھوڑا ہے، تفصیلات بتا دی ہیں اور احادیث میں اس کی تفصیلات ملتی ہیں۔ آپ سورۂ حجرات پڑھ لیں گے تو آپ کو مل جائے گا کہ مومنوں کا کیا کردار ہونا چاہیے، کس طرح ان کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رہنا چاہیے، ان کا معاشرہ کس قسم کا ہونا چاہیے، کن بری باتوں سے ان کو اپنے آپ کو بچانا چاہیے۔ مومنوں کا اخلاق، کردار، اپنا صلہ رحمی کا کیا تقاضا ہوتا ہے، اپنے والدین کے ساتھ کس طرح حسنِ سلوک کرنا چاہیے، پڑوسیوں کے ساتھ کس طرح حسنِ سلوک کرنا چاہیے، صلہ رحمی، رشتہ دار ہیں ان کے جو حقوق ہیں رشتہ داری کی وجہ سے ان کے حقوق ادا کرنا چاہیے۔
تو اس کا تمام احادیث میں بھی اس طرح ملتا ہے کہ جس طرح تمہاری نفس کا تمہارے اوپر حق ہے، اسی طرح تمہارے گھر والوں کا، تمہارے اہل کا حق ہے، اسی طرح تمہارے جار کا، تمہارے پڑوسیوں کا تم پر حق ہے “فَآتِ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ” ہر حق دار کو اس کا حق ادا کرو، اس کا حق ادا کرتے ہوئے زندگی گزارو۔ تو اس طرح یہ تمام چیزیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن میں اور احادیث میں اپنے نبی کے ذریعے سے واضح کروا دی ہیں۔ ہمیں ان کا مطالعہ کرنا چاہیے اور اس کے مطابق زندگی گزارنا چاہیے تو ہمیں یہ سوال پوچھنے کی اور یہ معلوم کرنے کی ضرورت نہ رہے گی، سب کچھ اللہ تعالیٰ نے بیان کر دیا ہے۔
مومنوں کا سب سے اچھا اخلاق ہوتا ہے، سب سے اچھا کردار ہوتا ہے، ان کے اندر حلم و رِفق ہوتا ہے، برداشت ہوتی ہے۔ وہ جاہلوں سے بھی الجھتے نہیں ہیں اور وہ اپنے لوگوں سے بھی اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ جس کا جتنا حق ہے احترام کا، تعظیم کا، اس کو اتنا حق اس کے ساتھ اس کا ادا کرتے ہیں، اتنا احترام کرتے ہیں اس کے ساتھ اور اپنے مالک کی کا جو حق ہے ان کے اوپر کہ اس کی عبادت کریں، اس سے جو محبت اور عقیدت کا، عبادت کا تعلق ہو، وہ کسی اور کے ساتھ نہ ہو۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو اللہ کے رسول ہیں، اللہ کے دین دینے، پہنچانے والے ہیں، اللہ کی طرف سے نمائندے ہیں، تو ان کا جو مقام ہونا چاہیے، وہ مقام ان کو دینا چاہیے۔ تمام چیزیں قرآن میں اور حدیث میں واضح کر دی گئی ہیں۔
ہم ان کا مطالعہ کریں، ہمارا ماحول ہے وہ بھی اس چیز کی اچھی طرح سے نشاندہی کرتا ہے۔ یاد رکھیے، اللہ کی کتاب اس چیز کو واضح کر دیتی ہے کہ جو انسانوں نے حفظِ مراتب بنائے ہوئے ہیں، یہ ان کے اپنے مصنوعی ہیں، خود ساختہ ہیں۔ یہ قوم کی وجہ سے، قبیلے کی وجہ سے، خاندان کی وجہ سے، کسی کے نسب، حسب نسب کی وجہ سے، یہ اللہ کی نظر میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک باپ اور ایک ماں سے پیدا کیا ہے، ایک مرد اور ایک عورت سے۔ تمہیں جو تقسیم کر دیا ہے قوموں میں، خاندانوں میں، قبیلوں میں، یہ اس لیے کہ تاکہ تمہارا معاشرہ جو ہے اچھی طرح سے ہو، معاشرتی حقوق کو پہچانا جائے۔ “إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ” تم میں اللہ کی نظر میں وہ زیادہ قابلِ احترام ہے، قابلِ عزت ہے، قابلِ تعظیم ہے، جو زیادہ اللہ سے ڈرنے والے ہیں، جو زیادہ متقی اور پرہیزگار ہیں۔ تو جو زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوگا، متقی اور پرہیزگار ہوگا، اس کا اخلاق بھی بہترین ہوگا، اس کا کردار بھی بہترین ہوگا، اس کا اپنے نفس کے اوپر قابو پانے کا انداز بھی سب سے زیادہ بہترین ہوگا، ہر معاملے میں وہ سب سے اچھا ہوگا۔
اسی لیے وہ متقی اور پرہیزگار جو خیر القرون میں تھے، وہ انسانیت کے بہترین لوگ تھے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سے جو وعدہ کیا تھا سورۂ نور میں، اس کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے، ان کے ساتھ وہ وعدہ پورا کیا اور ان کو تمام اقوام پر فضیلت اور فوزیت، فوقیت عطا فرما دی پروردگارِ عالم نے۔ ان کا اخلاق ایسا تھا کہ جنگوں کے اندر جنگیں رک جاتی تھیں، کہیں قیام ہوتا تھا، تو دوسرے مذہبوں کے لوگ، دوسرے ملتوں کے، دوسرے قوموں کے لوگ، ان کے اخلاق سے متاثر ہو کر ان کے ان کے اندر شامل ہو جاتے تھے، کلمہ پڑھتے تھے کلمۂ طیبہ۔ کتنے ایسے لوگ ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق سے متاثر ہو کر ایمان لے آئے ہیں۔ تو الـ یہ تو اصل میں مثالی ہے، مومن کا اخلاق، مومن کا کردار، مومن کی سـ سیرت اور اس کا اس کی چال ڈھال، اس کا طرزِ تکلم، سب کچھ مثالی ہوتا ہے اور یہ ہونا چاہیے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں قرآن و حدیث کا مصداق بننے کی، جس کی آپ کو ابھی ہـ تقریر میں جس کی وضاحت کی گئی ہے، اس کی توفیق عطا فرمائے۔ وہ صحابۂ کرام خیر القرون کے لوگ اس کے مصداق تھے صحیح معنوں میں، صحابۂ کرام، پھر اس کے بعد جو ان کے تابعی تھے، وہ ان سے کم درجے کے لوگ تھے لیکن وہ بھی کسی بڑی حد تک، پھر ان کے بعد جو تابعین کے تابعین تھے، تبع تابعین کہلاتے ہیں، وہ بھی کسی حد تک۔ یہ خیر القرون کے لوگ تھے لیکن اس کے بعد جب بگاڑ شروع ہوا ہے، سب سے زیادہ تیزی سے بگاڑ آیا ہے، ان صوفیوں کے دور میں آیا ہے جنہوں نے گھڑ گھڑ کے حدیثیں جو ہیں بیان کی ہیں اور اس کے بعد لوگوں کے لیے چور راستے نکالے ہیں اور وہی چور راستے آج جو ہیں یہ لہو الحدیث کی شکل میں ان کی کتابوں کے اندر ملتے ہیں اور یہ “لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الْأَفْلَاكَ” جس کا ذکر کیا ہے، یہ بھی آپ دیکھیے کیا مقام دے دیا گیا ہے! اور کس طرح سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو وجہِ تخلیقِ کائنات بنا دیا گیا ہے۔ حالانکہ اللہ کی کتاب تو کہتی ہے “وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ” ہم نے جن و انس کو اپنی بندگی کے لیے بنایا ہے۔ اور “خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا” سورۂ بقرہ میں فرمایا سب کچھ انسانوں کے لیے بنایا ہے، انسانوں کو اپنی بندگی کے لیے بنایا ہے۔ تو اب تو واـ واضح بات واضح ہو گئی، تخلیق کی وجہ، تخلیق کا سبب، تخلیق کا منصوبہ، سب کچھ کتاب اللہ نے واضح کر دیا ہے۔
تو دیکھیے، ہمارا سیرت و اخلاق وہ ہونا چاہیے جو کتاب اللہ پیش کرتی ہے، جو احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پیش کرتی ہیں اور جن کا بہترین نمونہ ہمیں صحابۂ کرام، تابعین، تبع تابعین کے دور میں ملتا ہے۔ یہ اگر ہم کوشش کریں گے تو ان شاء اللہ ہمارے اندر تبدیلی آئے گی۔ ان کی کوششیں تھیں، انہوں نے کوشش کی تھی۔ بدترین معاشرے کے لوگ تھے وہ۔ آپ اگر اس دور کی تاریخ کا مطالعہ کریں، ان حالات کا، تو آپ کو ملے گا کہ ان جیسے بد اخلاق اور عریانی اور فحاشی کے شائق زمین کے کسی حصے میں پائے نہیں جاتے تھے۔ اس معاشرے سے کے نکلے ہوـ نکلے ہوئے لوگ اور کتنے اعلیٰ اخلاق والے ہو گئے تھے، کتنے اعلیٰ کردار والے ہو گئے تھے۔ ان کے لیے سزائیں کیسی تھیں، حدود کیسی تھیں اور ایک یا دو پر حدود نافذ ہوتی تھیں اور پھر اس کے بعد یہ واقعات مفقود ہو گئے تھے بالکل، کل عدم ہو گئے تھے، سارے بدکاری کے واقعات مفقود ہو گئے تھے۔ چوری مـ مفقود، زماـ دروازوں دروازے ہوتے نہ تھے، پردے پڑے ہوتے تھے صرف، پردے کے لیے۔ تو اب آپ دیکھیے ایسا اخلاق، ایسا کردار، ایسا معاشرہ۔
تو ہمیں کوشش یہ کرنا چاہیے، جو ابھی بتایا گیا تقریر میں کہ ہمیں ان سے نہ مرعوب ہونا چاہیے ان فیشن پرستوں کے سے، جن کی زندگیوں میں ہم جھانک کے دیکھیں، جن کی نجی زندگیوں میں، تو ہمیں یہ جانوروں سے زیادہ بدکـ بدکار نظر آئیں گے، جانوروں سے زیادہ بے حیا نظر آئیں گے، جانوروں سے زیادہ بد خو نظر آئیں گے، لیکن دیکھنے میں صاف ستھرے کپڑے پہن کر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہی بہت ہی زیادہ شائستہ لوگ ہیں۔ ان کا ملک بہت ترقی کر رہا ہے کیونکہ ان کا قانون سخت ہے، یہ چھوڑتے نہیں ہیں، ان کا قانون کسی کو چھوڑتا نہیں ہے۔ تو اس لیے یہ اس کے پابند ہیں، مجبور ہیں۔ قانون کے سانچے سے جب نکلے ہوئے ہوتے ہیں، تو ان سے زیادہ بدتر مخلوق زمین پہ نہیں نظر آئے گی۔ ان سے ہم مرعوب ہیں ظاہری طور سے، ان کی فـ ان کے سے ہمارا یہ حال ہے ان کے سامنے کہ بس ان کی ہر چیز کو ہم اپنے ہاں نافذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اپنے ہاں جاری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے جو اقتدار والے ہیں، وہ بھی ان سے مرعوب ہیں اور جو ہمارے پڑھے لکھے لوگ ہیں، وہ بھی ان سے مرعوب نظر آتے ہیں، کیونکہ وہی معاشرہ ہے، وہی فیشن پرستی کا کا جو مزاج ہے، وہی جاری کر دیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ان تمام چیزوں سے بچائے، قرآن و حدیث پڑھ کر اس کے مطابق ہمیں اپنی سیرت و کردار کو ڈھالنے کی توفیق دے مالک۔ تو اس کے بعد ان شاء اللہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہاں بھی اس کے ہاں بھی ہماری ہمارا جواب، سوال جواب آسان ہوگا، حساب کتاب آسان ہوگا اور اس دنیا میں بھی عزت اور کامیابی سے ہمکنار کیے جائیں گے۔ یہی اللہ کا وعدہ ہے۔