:سوال
اللہ تعالیٰ نے سورہ النور میں باپ، سسر، بھائی، شوہر، شوہر کے بیٹے، بھتیجے، بھانجے اور وہ غلام جو عورتوں کی خواہش نہ رکھتے ہوں، کیا ان کے علاوہ عورت کے چچا، ماموں، خالو وغیرہ اور اس طرح شوہر کے چچا، ماموں وغیرہ سے بھی پردے، پردہ نہیں کرے گی؟
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
ہاں، یہ ماموں، چچا وغیرہ سے تو یہ تو محرم ہیں، ان سے تو پردے کا سوال نہیں پیدا۔ لیکن اور جو بھائی، بھتیجے ان سے تو احتیاط رکھنی چاہیے، جو محرم ہوں ان سے پردہ نہیں ہے، جو غیر محرم ہوں جن سے نکاح ہو سکتا ہے ان سے پردہ کرنا چاہیے۔
پردہ عورت کے لیے فرض کی حیثیت رکھتا ہے بالکل۔ یہ اس پہ بہت ہی تاکیدی حکم ہے اور احادیث میں بھی ہے اور اس پر عمل بھی رہا ہے اسی طرح۔
ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ایک فرمایا فرمان آتا ہے کہ وہ حج کے لیے طواف کر رہی تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ، تو اس میں احرام ہوتا ہے، کوئی ایک دوسرے کی طرف دیکھتا بھی نہیں ہے، اپنے اپنے طواف میں اپنے عمل میں مصروف ہوتے ہیں سب لوگ۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ ہمارے سامنے کوئی اعرابی آ جاتا تھا تو احرام کی حالت میں بھی ہم اپنی چادر کو چہرے پر ڈال لیا کرتے تھے، حالانکہ احرام میں اتنی زیادہ سختی نہیں ہوتی ہے، کوئی سلی ہوئی چیز تو نقاب وغیرہ ڈالی نہیں جا سکتی لیکن چادر کا پلو گرایا جا سکتا ہے پردے، پردے۔ تو وہ بیان کرتی ہیں کہ ہم اس وقت بھی گرا لیا کرتے تھے، تو اس سے پردے کی ان کی سختی سے عمل ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔