:سوال
کیا شرعی پردے کا مطلب یہی ہے کہ عورت ہر اس شخص سے پردہ کرے جس سے اس کا نکاح ہو سکتا ہو؟ کیا قریبی رشتہ دار جیسے چچا، خالا، ماموں، پھوپھی زاد سے ویسا ہی پردہ رکھنا لازمی ہے جیسا کہ عام شخص ہے؟ ذرا تفصیل سے بتائیے گا۔
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
اس میں اصل میں قرآن، حدیث میں تو شرعی حدود کا ذکر کر دیا گیا ہے، پردے کے پردے کے طریقے بھی بتا دیے گئے ہیں، چہرہ ڈھکنے کے لیے بھی بتایا گیا ہے، سینے پہ جو خواتین کی جنسی کشش ہوتی ہے اس کے لیے بھی چادر ڈالنے کے لیے حکم دیا گیا ہے، اس کو ڈھاپنے کا حکم دیا گیا ہے۔ تو جو یعنی خواتین کی زینت کی چیزیں ہیں: {وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ}، اپنی زینت کو نہ ظاہر کیا کرو لوگوں کے سامنے، تو اس کا حکم دیا گیا ہے۔
تو یہ جہاں تک کہ اجنبی کے ساتھ پردہ ہے گھر سے نکلتے ہوئے، وہ پوری طرح سے چادر لپٹی ہو یا برقع ہو، اس زمانے میں چادر، برقع تو وہ ہوتا نہیں تھا، چادر ہوتی تھی، یہ تو آج کل برقع ایک اس میں واقعی جو اچھی طرح برقع صحیح معنوں میں ہو، پورے پردے کے لحاظ سے تو وہ صحیح ہوگا، ورنہ یہ کہ عام طور سے برقع فیشن کے لحاظ سے ہوتا ہے وہ پورا اس کا حق ادا نہیں کر پاتا۔ اگر چادر ایک بڑی چادر ہو اور پوری طرح سے اس سے جسم کو ڈھکا جائے اور چہرہ بھی ڈھکا جائے، تو وہ حق ادا کر سکتا ہے، برقعے سے بھی زیادہ بہتر طریقے سے۔ بہرحال گھر سے نکلیں تو اس طرح سے ہونا چاہیے، یعنی اجنبیوں سے پورا پردہ ہونا چاہیے۔
گھر والوں سے، کیونکہ ان کے ساتھ ہر وقت کا اٹھنا بیٹھنا ہے، کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے مشترکہ فیملی ہوتی ہے تو وہاں اتنی گویا سختیاں اور پابندیاں ذرا مشکل بھی ہوتی ہیں، لیکن ان سے بے تکلفی بالکل نہیں ہونی چاہیے۔ جب بھی ایسے لوگوں کے ساتھ جو ہمارے غیر محرم ہیں؛ چچا زاد، پھوپھی زاد، خالا زاد ان کے ساتھ، دیور، خاص طور سے دیور اور جیٹھ کے ساتھ تو بہت ہی زیادہ احتیاط بتائی گئی ہے، اس کو تو زہر کہا گیا ہے، ہلاکت! ان سے زیادہ ہونا چاہیے۔
تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے جتنے قانون بنائے ہیں، اس میں معاشرے کے لیے بہترین، حکمت آمیز چیزیں رکھی گئی ہیں، معاشرے کی پیچیدگیوں سے بچتے ہیں اور خرابیاں پیدا نہیں ہوتی ہیں، مسائل نہیں اٹھتے ہیں اگر ان کی پابندی پوری طرح سے کیا جائے، امن و سکون رہتا ہے، تعلقات اچھے رہتے ہیں، کسی قسم کے شیطان کو بدگمانیوں کا موقع بھی نہیں ملتا ہے۔ تو اگر گھر کے اندر اس جہاں تک بھی ہو، ہم اس کی اجازت نہ دیں کہ بے تکلفی ہو، بغیر چادر کے اور بغیر دوپٹے کے ان کے غیر محرموں کے سامنے آنا جانا ہو، یہ نہیں ہونا چاہیے۔
شرم و حیا، شرم و حیا کا اگر پورا لحاظ رکھا جائے تو خود بخود یہ چیزیں آ جاتی ہیں اور شرم و حیا جو ہے، یہ ایمان کی ایک شاخ بتائی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: {الْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ}، حیا جو ہے ایمان کی ایک شاخ ہے۔ جہاں ایمان نہیں ہوتا وہاں حیا اور غیرت نہیں ہوتی، وہاں اس کو اٹھا کے بالکل پھینک دیا جاتا ہے، حیا کا پردہ، غیرت کا پردہ۔ لیکن ایمان والوں کے ہاں سب سے زیادہ حیا اور غیرت ہونی چاہیے، ان سے یہ توقع ہے۔ تو اس لیے ان کو گھر کے اندر بھی اس کا پورا لحاظ اور خیال رکھنا چاہیے، یہ ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔
بہرحال اگر اس میں پردہ وغیرہ بھی رکھا جائے، یہ ذرا امکان اس کا نظر کم آتا ہے اور اس کی اتنی سختی کا بظاہر کچھ ایسا ملتا نہیں ہے ثبوت۔ اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کبھی کبھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں آتی تھیں تو کہیں یہ نہیں ملتا کہ وہ پردے سے آتی ہوں، کبھی کبھی آپ نے ان سے یہ بھی کہا ہے کہ باریک لباس نہ پہنا کرو۔ تو اس قسم کی چیزیں ملتی ہیں تو اس سے اندازہ یہی ہو سکتا ہے کہ ہوتا ہے کہ یہ اجنبیوں کے ساتھ جو پردہ ہوتا ہے، وہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ جو غیر محرم ہیں ان کے ساتھ۔ غیر محرم اس کو کہتے ہیں جس کے ساتھ نکاح ہو سکتا ہو، تو ان کے ساتھ ویسا سختی پردے کی نہیں معلوم ہوتی بظاہر۔ لیکن اگر کی جائے تو بہت اچھی بات ہے، اگر ممکن ہو یہ، گھر کے اندر ایسا ممکن ہو اور کی جائے تو بہت اچھی بات ہے، اس سے اور بھی زیادہ پیچیدگی سے ہم بچیں گے کیونکہ اسلام کی اس میں، بہرحال یہ ضرور سمجھنا چاہیے کہ ضرورت سے زیادہ سختی کرنا جس کے ہم متحمل نہ ہو سکیں، اس سے ذرا تھوڑا سا احتیاط برتنی چاہیے۔ جتنی بھی اسلام کی حدود اور شرعی حدود کی خیال کیا جائے، وہ ہے اچھا، بہت اچھی بات ہے۔
لیکن گھر سے نکلتے ہوئے اتنی زیادہ بے تکلفی بھی نہیں ہونی چاہیے کہ اپنے بیٹھے ہوئے ہیں ڈرائنگ روم میں اور گپیں ماری جا رہی ہیں، گپیں ماری جا رہی ہیں غیر محرموں کے ساتھ، یہ نہیں۔ جب بھی بیٹھیں بھی غیر محرم اس کے ساتھ کھانا کھانے کے لیے یا رشتہ دار باہر سے آئے ہوئے ہیں ان میں چچا زاد، پھوپھی زاد وغیرہ ہوں، ماموں زاد، تو ان کے ساتھ بیٹھیں تو اپنی بزرگ خواتین کے ساتھ بیٹھیں، سب مل کے بیٹھیں اور تھوڑی بہت دیر بات کریں، اتنا زیادہ بے تکلفی، ہنسنا، قہقہے لگانا، یہ سب چیزیں نہیں ہونی چاہئیں۔ بہت ہی محتاط اور ریزروڈ قسم کا انداز اختیار کرنا چاہیے۔