:سوال
دس، پندرہ سال پرانے ساتھی داڑھی سنت کے مطابق نہیں رکھتے ہیں، انہیں ترغیب دیں؟
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
بھائی۔ یہ داڑھی کے معاملے میں تو یہ ترغیب دی جاتی رہتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کی نظر میں دیکھیے آپ کیسے مخصوص بندے ہیں اس کے، جن میں یہ اس نے ہدایت کی شمع روشن کی ہے، آپ کو اس طرف آگے بڑھائے ہیں آپ کے قدم۔ تو یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا انتہائی فضل و کرم ہے ایسے پرآشوب زمانے میں!
تو اس نعمت سے ہمیں جہاں اس ایمان سے محبت، ایمان کی قدر ہمارے دل میں ہونا چاہیے، یہ ایمان سے محبت اور قدر کا جذبہ اس بات کا متقاضی ہے کہ ہم اس کے تقاضوں کو پورا کریں، پورے جوش اور ولولے کے ساتھ۔ ذرا سی بھی ہمارے اپنے عمل کے اندر، ہماری اپنی، اگر واقعی ہمارے اندر خلوص ہے ایمان کے لیے، تو اس کے بعد سنت سے ہمیں محبت ہونا چاہیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی۔ دو ہی چیزیں تو ہیں: اللہ سے محبت اور اللہ کے رسول سے محبت۔
یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، اللہ کی کتاب بھی یہی بات کہتی ہے: {مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ}، {مَنْ يُطَاعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ}، جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے صحیح معنوں میں اللہ کی اطاعت کی۔ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اتباعِ سنت یا اطاعتِ رسول کو محبتِ رسول کہا ہے: کہ {مَنْ أَحَبَّ سُنَّتِي فَقَدْ أَحَبَّنِي وَمَنْ أَحَبَّنِي كَانَ مَعِيَ فِي الْجَنَّةِ}۔ جس نے میری سنت سے محبت کی، اس نے صحیح معنوں میں مجھ سے محبت کی اور جو مجھ سے محبت کرنے والا ہوگا، یعنی اس معنوں میں، صحیح معنوں میں، عمل کے لحاظ سے، اس محبت کا عملی ثبوت پورا، ثبوت دیکھ۔ تو وہ صحیح معنوں میں محبت کے دعوے میں اور خیال میں سچا ہے۔ تو جو اس طرح سچی محبت کرنے والا ہوگا، وہی میرے ساتھ جنت میں ہوگا۔
تو اب یہ تقاضا اس بات کا ہے کہ ہمیں سنت سے بہت زیادہ محبت ہونا چاہیے، ہم پوری طرح داڑھی رکھیں جیسی کہ سنت کا حق ہے، اس طرح سے۔ داڑھی رکھیں اور فیشن کے لحاظ سے نہ رکھیں، نہ فیشن یا ذہنی مرعوبیت یہود و نصاریٰ جو جانوروں کی طرح سے ہیں، ان سے مرعوبیت ہمیں داڑھی رکھنے سے روکے اور نہ ہم رکھیں داڑھی فیشن کے طور پہ کہ اس کو داڑھی رکھیں اور تراشتے رہیں، یہ بھی مناسب نہیں ہے، یہ بات بھی مناسب نہیں۔
سنت کے مطابق داڑھی رکھیں، ہمیں اس میں پورا اعتماد ہو اور اس سے ہمیں خوشی حاصل ہو سنت کے راستے پر چلتے ہوئے ہر طریقے سے۔ جو بھی طریقہ سنت کا اختیار کریں، ہمارے دل کو حقیقی مسرت حاصل ہو اس سے، ایمان کا یہی تقاضا ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: {ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ بِهِنَّ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ}، جس کے اندر تین اوصاف ہیں، وہ صحیح معنوں میں ایمان کا ذائقہ پاتا ہے۔ تین چیزیں ہوں: {أَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا} کہ اللہ اور رسول سے محبت اس کو ماسوا سے زیادہ ہو جائے۔ تو اب کوئی بھی چیز اس کو اللہ اور اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری، حکم بجا لانے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع کرنے سے کوئی چیز بھی مانع نہ ہو، کسی قسم کی بھی مرعوبیت، کسی قسم کا بھی فیشن، کوئی چیز بھی۔ یہ انداز ہونا چاہیے بھائی۔
اللہ تعالیٰ نے سورہ حجرات میں مومنوں کو جہاں آداب سکھائے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سلوک میں ادب و احترام کے لیے اور بزرگوں کے ساتھ ادب و احترام کے معاملے میں، وہاں یہ بھی بتایا کہ دیکھو، تمہارا طرزِ عمل، تمہارا طریقہ، تمہارا معاملات ایسے ہونے چاہئیں جو ایمان والوں کے ہونے چاہئیں: {وَلَكِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ}، اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمہارے دل میں ایمان کی محبت دی ہے اور ایمان کے تقاضوں کو تمہارے دل میں بڑا مزین کر دیا ہے۔ تو تمہیں بڑی خوشی ہونی چاہیے اور اس میں تمہیں کشش محسوس ہونی چاہیے۔ خوب داڑھی بڑھائیں، لبیں تراشیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے، جو بھی چیز ہمیں ملے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی، ہر ادا ہمیں اپنی زندگی میں پسند ہو۔
عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو بہت بعد میں ایمان لائے ہیں، ان سے جو حدیث ہے، بخاری مسلم کی روایت ہے کہ {ذَاقَ طَعْمَ الْإِيمَانِ}، اس نے ایمان کا ذائقہ پا لیا ہے جس نے اللہ کو، اللہ کو اپنا رب مان لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا رسول مان لیا اور اسلام کو اپنا دین بنا لیا۔ اسلام، اسلام کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کا مطیع و فرمانبردار ہونے کا اس نے دین اختیار کر لیا۔ اللہ کی اطاعت، اللہ کے رسول کی اطاعت، یہ اس کی زندگی کا مقصد ہو گیا، زندگی کی بنیاد ہو گیا، زندگی کے ستون بن گیا۔
تو جس نے اس چیز کو اپنی زندگی کا مقصد اور موقف بنا لیا، اس نے صحیح معنوں میں ایمان کا ذائقہ پا لیا۔ تو ایمان کا ذائقہ صحیح معنوں میں پانے کے معنی یہ ہیں کہ اس کی ہمارے اندر بھوک ہو ایمان کے تقاضے پورے کرنے کی، پیاس ہو اور یہ پیاس نہ بجھے۔ زیادہ سے زیادہ ہم اس راستے میں آگے بڑھیں، سنت کے تقاضے پورے کریں اور یہ بھوک اور پیاس ہماری نہ مرے۔ ذاق، ذائقہ پانے کے معنی یہی ہیں۔ ورنہ جو بدہضمی کا شکار ہوگا، اس کو کیا ذائقہ ہوگا؟ اس کے دنیا پرست کے لیے، دنیا پرست کے لیے ایمان میں کیا محبت ہوگی؟ ایمان کے تقاضے میں کیا محبت ہوگی؟ وہ تو جو بھی اس کو مفادات حاصل ہوں گے جس راستے سے، اس راستے پہ چلے گا اور اسی میں اس کو دلچسپی ہوگی، اسی میں اس کو کشش ہوگی۔ ایمان والوں کا یہ معاملہ نہیں ہے، ان کے سامنے جنت ہے، جنت کی نعمتیں ہیں، ابدی اور راحتیں ہیں، دائمی بہاریں ہیں، ان کے سامنے یہ چیز ہوتی ہے۔