اگر دو مؤمنوں میں لین دین کے معاملے میں تنازع ہو جائے اور بول چال بند ہو جائے تو ان کے لیے کیا حکم ہے؟

:سوال

اگر دو مومن بھائیوں کا لین دین کے معاملے میں تلخ کلامی ہو جائے اور بول چال ختم ہو جائے تو ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟

: جواب از محمد حنیف صاحبؒ

یہ بول چال پسندیدہ نہیں ہے، جتنی جلدی ہوتی ہے تین دن سے زیادہ تو رہنا نہیں چاہیے۔ اس میں جو پہل کرے بولنے میں، سلام کرنے میں، تو اس کا اجر زیادہ ہے اور جب سلام کیا جائے اس کا جواب دینا فرض ہے۔ مومن، مومن بھائی کو سلام کرے تو قرآن حکم دیتا ہے: فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا۔ إِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا  فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا۔ جب تمہیں سلام کیا جائے، تحیات کی جائیں، تو اس سے احسن طریقے سے اس کا جواب دو یا کم سے کم اتنا ہی لوٹا دو، اتنا ہی جواب دے دو۔

​تو احسن طریقے سے تو یہ ہے کہ وعلیک، السلام علیکم کا جواب وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ۔ اور اس سے زیادہ کہا جائے السلام علیکم ورحمۃ اللہ، تو جواب وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ لیکن اگر کسی نے پورا کہا، تو اس کو کہہ دیا جائے وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، تو یہ اتنا ہی لوٹانا ہو جائے گا۔

​بس ایک روایت میں یہ بھی ملتا ہے کہ نبی صلی اللہ، ایک صحابی نے آپ کو السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہا، تو آپ نے اس کو ‘وعلیکم’ کہہ دیا۔ تو یہ اس کے معنی ہیں کہ جو کچھ اس نے کہا تھا، پورا اسی کا جواب ہو گیا یہ۔ جب پوچھا گیا آپ نے تو مختصر جواب دیا، تو آپ نے فرمایا اس نے میرے لیے کچھ چھوڑا نہیں۔ یہ بھی ملتا ہے، بہرحال جب قرآن کا حکم ہے، اسی طرح عمل ہونا چاہیے، ہو سکتا ہے نبی علیہ السلام نے یہ عمل صرف تعلیم کے لیے کہا تھا۔ کہا ہو کہ بھئی، کم، سلام میں ذرا کمی رکھی جائے، پورا اتنا لمبا سلام نہ کیا جائے تاکہ کہنے والا مجبور ہو کہ اتنا ہی جواب دے وہ، اور پھر احسن طریقے سے جواب دینے کے لیے اس کے لیے راستہ بند ہو جاتا ہے، اگر کوئی اتنا طویل سلام کرے گا تو احسن طریقے سے جواب نہیں دے گا۔ طبیعت تو چاہتی ہے وہ احسن طریقے سے جواب دے تاکہ اس کو اجر ملے۔

​میں عرض یہ کر رہا تھا کہ سلام کا کیا جاتا ہے، تو اس کا جواب دینا فرض ہو جاتا ہے۔ سلام کرنا سنت ہے، جواب دینا فرض ہے۔ جو اگر کوئی سلام نہ کرے تو گناہ نہ ہو گا، صرف اجر سے محروم رہے گا، لیکن اگر سلام کرنے کے لیے جواب نہ دے، تو گنہگار ہو گا۔ فرض کے تارک کا گنہگار۔

​تو اس لیے بول چال ختم ہونے پر جو پہل کرتا ہے بولنے میں اور سلام کرتا ہے پہلے، اس کا اجر جاتا، زیادہ ہے اور پھر اس کو سننے والے کو جواب دینا پڑتا ہے اور چاہیے کہ جب ایک طرف سے پہل ہو گئی ہے، تو پھر وہ اس کا پوری طرح سے پذیرائی کرے اور بول چال شروع ہو جائے، مومنوں میں آپس میں نہیں رہنا چاہیے، لیکن ان کا کسی معاملے میں اگر تنازع ہو، تو اپنے نظم میں آ کر اس تنازعے کو حل کرا لیں۔ کیا طریقہ؟

تلاش کریں