اگر کسی کو سانپ ڈس لے، تو کیا منتر جو، او، مداری پڑھتے؟

:سوال

 اگر کسی کو سانپ ڈس لے، تو کیا منتر جو، او، مداری پڑھتے ہیں(وہ پڑھ سکتے ہیں)؟

: جواب از محمد حنیف صاحبؒ

 نہیں، اس میں بس یہی ہے کہ آپ معوذات پڑھ لیں یا سورۂ فاتحہ پڑھ لیں۔ جو ایسی، دیکھیں حدیثیں ہوتی ہیں یا سنت ہوتی ہے تین قسم کی۔ ایک قولی، نبی علیہ السلام کوئی بات سکھائیں یا کسی بات کا حکم دیں، تو وہ قولی حدیث یا قولی سنت کہلاتی ہے۔ یہ سب سے اونچا درجہ ہے سنت کا یا حدیث کا۔

​اس کے علاوہ فعلی ہے عملی، فعلی، کہ نبی علیہ السلام نے کوئی عمل کیا ہے، تو ان کی عمل، اتباع میں، اتباعِ سنت میں ہم ویسے ہی عمل کریں، اسی طرح کریں۔ تیسری کوئی چیز ہوتی ہے کہ کوئی صحابی کوئی عمل کریں اور نبی علیہ السلام اس کو منع نہ کریں۔ تو یہ تقریری کہلاتی ہے۔ تقریر، تقریر جو بنا ہے، ‘قَرَّرَ یُقَرِّرُ تَقْرِیرًا’، یعنی کسی چیز کو برقرار رکھنا، تو یہ تقریری سنت کہلاتی ہے۔

​تو ایک صحابی نے جب سورۂ فاتحہ پڑھ کے دم کیا، اس قبیلے کے سردار کے اوپر جس کو ڈسا گیا تھا، تو اس نے، قبیلے نے ان کے، ان کی ضیافت نہیں کی تھی اس، کہا، اس پر حق تھا ان کا کہ وہ ضیافت کریں، لیکن ضیافت نہیں کی، تو اللہ تعالیٰ نے ایسا سبب بنا دیا کہ سانپ نے ڈسا، تو پھر اس کے بعد اس نے ضیافت کی، ان کو بکریوں کا ایک ریور پیش کر دیا ان کو۔

​تو یہ سورۂ فا، آ، نبی علیہ السلام نے اس پر منع نہیں کیا۔ یہ ضرور پوچھا کہ بھئی تم نے کیوں ایسا کیا؟ یعنی تمہیں بتایا تو نہیں تھا کہ کسی کے کاٹنے پہ سورۂ فاتحہ دم کی جاتی ہے۔ تو انہوں نے کہا میں نے تو قرآن کی ایک سورہ سمجھ کے، قرآن کی آیات سمجھ کے تلاوت کر دی اور کر دیا دم، تو نبی علیہ السلام نے منع نہیں کیا کہ آئندہ نہیں کرنا یا ایسا نہیں کرنا چاہیے ایسا، اس لیے یہی پڑھ کے دم کر سکتے ہیں، یہ تقریری سنت میں آ جاتا ہے۔

تلاش کریں