:سوال
میرے والد صاحب مشرک ہیں اور اپنی اولاد کے ساتھ انصاف نہیں کرتے، خاص طور پر میرے خلاف جان بوجھ کر فیصلے دیتے ہیں اور اسی وجہ سے میرے دل میں ان کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے اور اسے ایسی صورت میں میرے لیے کیا حکم ہے؟
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
آپ اگر وہ کوئی آپ کو آپ دین سے روکیں، کوئی ایسی پابندی لگائیں، تو اس پر آپ ان کی بات نہ مانیں، باقی ہر طرح سے آپ ان کی خدمت کریں اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کریں۔ کوئی ان کے لیے دل میں آپ ایسا خیال بھی کبھی نہ لائیں۔ اللہ تعالیٰ نے ماں باپ کا جو مقام رکھا ہے، اس کے لحاظ سے، البتہ یہ ہے کہ ان کی دین کی کوئی ایسی بات جو شریعت کے خلاف ہو، اللہ اور رسول کے حکم کے خلاف ہو، وہ ان کی بات نہ مانی جائے، نہ ان کی کوئی ایسی پابندی قبول کیا جائے جس کو ان کا اختیار نہیں ہے، باقی ہر طرح ان کی خدمت کر رہے ہیں آپ، جہاں تک بھی کر سکتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ اگر وہ آپ کے خلاف کوئی فیصلے دیتے ہیں، آپ صبر کریں اس پر اور آپ اف بھی نہ کریں، نہ کوئی احتجاج کریں ان سے۔ اگر کبھی، ادب کے ساتھ آپ ان کو ان کی توجہ دلا دیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، ادب و احترام ملحوظ رکھتے ہوئے، بے ادبی نہ ہو، ان کی ناراضگی کا سبب نہ ہو، تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
لیکن ایمان کے کی وجہ سے آپ کے اوپر یہ ذمہ داری ہے جو دوسرے لوگوں پر غیر مومنوں میں نہیں ہے ذمہ داری۔ ایمان والا جو ہے پابند ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کے احکامات کا، قرآن و حدیث کے احکامات کا، غیر مومنوں پر کوئی ایسی پابندی نہیں ہوتی۔ تو آپ اس بات کے پابند ہیں کہ آپ ان کی طرف سے سختی کو خاموشی اور صبر کے ساتھ برداشت کریں، اس پہ آپ کو اجر ملے گا۔ ایمان والے کی ایک خاص صفت ہوتی ہے صبر کی۔ وہ گھر والوں، معاشرے، اپنے نفس اور ہر معاملے میں اور تمام مخالفین کے، کی تمام مخالفانہ کارروائیوں کے، کے اوپر صبر کرتا ہے، اس کا اجر ملتا ہے اور صبر ہی کی کا بدلہ جنت ہے۔ جنت جو ہے، وہ صبر کی قیمت ہے۔ نفس کے تقاضوں کے خلاف صبر، تمام اس طرح کی معاندانہ کارروائی، معاندانہ کارروائیوں کے خلاف صبر، اس اسی کے کا بدلہ اجر جنت ہے۔
اس لیے ان کی قدر و قیمت آپ رکھیں دل میں، اس پر بہت حکم زور دیا گیا ہے، صلہ رحمی اور خاص طور سے والدین کے لیے بہت زیادہ۔ تو اس میں آپ کے دل میں ایسا کبھی خیال بھی نہ لانا چاہیے بالکل۔ ان کی ساتھ بے ادبی کا یا گستاخی کا یا ان کا احترام اور ادب کی کمی کا کبھی خیال نہ آنا چاہیے، ویسے ہی ان سے محبت رہنی چاہیے۔
یاد رکھیے کہ جب آپ کسی بھی قابل نہ تھے، اس وقت انہوں نے آپ کی پرورش کی ہے، اپنے عیش و آرام کو قربان کر کے آپ کو عیش و آرام پہنچایا ہے، آپ کی ساری ضروریات پوری کی ہیں۔ ماں کا اس کا اس لیے بہت زیادہ درجہ ہے، چار درجے زیادہ حق ہے ماں کا۔ جب نبی علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ میرے اوپر صلہ رحمی کا حق زیادہ کس کا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ‘لِأُمِّکَ’ تمہاری ماں کا۔ کہا اس کے بعد؟ پھر آپ نے وہی کہا: ‘لِأُمِّکَ’۔ تین مرتبہ آپ نے کہا، پھر چوتھی مرتبہ پوچھنے پہ بتایا: ‘لِأَبِيْکَ’ تمہارے باپ کا۔ تو بہرحال ان کا حق ہے اور قرآن میں بھی اس بات کو بتایا گیا ہے۔ سورۂ بنی اسرائیل میں فرمایا: {وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا}۔ تمہارے رب کا یہ فیصلہ ہے کہ عبادت اس کی سوا کسی کی نہ ہوگی اور والدین کے ساتھ احسان، حسنِ سلوک کیا جائے گا، احسان کا رویہ اختیار کیا جائے گا۔ اور احسان کے رویے کے معنی یہ ہے کہ اگر آپ کے ساتھ کوئی ایسا ناروا کام بھی کرے جو آپ کو ناگوار ہو، آپ پھر بھی اس کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آئیں، اچھی طرح سے پیش آئیں، یہی احسان کہلاتا ہے۔ اچھا سلوک آپ اس کے ساتھ کریں جو اچھا سلوک کرتا ہے، یہ تو ایک اخلاق کا تقاضا پورا کر دیا آپ نے، اس میں احسان کی کوئی بات نہیں ہے۔ اگر آپ نہیں کرتے ایسا تو آپ زیادتی کرتے ہیں، گنہگار ہوں گے اور اگر کر دیتے ہیں تو آپ نے جیسا اس نے سلوک کیا، آپ نے کر دیا۔ لیکن جو آپ کے ساتھ زیادتی کرے، آپ اس کے ساتھ بھی اچھا سلوک کریں تو یہ احسان کہلاتا ہے۔ والدین کے ساتھ ہر صورت میں احسان کا رویہ اختیار کرنا ہے، قرآن کا یہ فیصلہ ہے اور بتایا گیا کہ کبھی اف بھی نہ کہنا ان سے، گلہ شکوہ کے بعد بھی نہ کرنا ان سے۔
تو والدین کا تو یہ مقام ہے، ہمیں اس مقام کو گرانا نہیں چاہیے۔