:سوال
اسلام میں بارات کی کیا حیثیت ہے؟
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
بارات یہ اسلام کی اصطلاحی نہیں ہے بارات۔ قرآن، حدیث میں آپ کو کہیں بارات نہیں ملتا۔ یہ ہندوؤں کا کی، ہندی کی، کا لفظ ہے بارات۔ وہیں سے آیا ہے، انہی کے ہاں ہوتا ہے بارات ہوتی ہے، لمبا جلوس نکلتا ہے، گھوڑے ہوتے ہیں، ڈھول ڈھول تاشے ہوتے ہیں اور سارے یہ جو آج انہوں نے کر لیے ہیں ہاں، وہ دولہا وہ بھی ہا ہا وہ پہنتا ہے، سہرا جس کو کہا جاتا ہے، تمام وہ سارے لوازمات ان کے ہاں ہوتے ہیں۔
اسلام میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اسلام میں دو ایک آدمی جاتے ہیں اور جا کے نکاح ہوتا ہے اور وہ اپنی بیوی کو، منکوحہ کو ساتھ کرا کے لے آتے ہیں، یہ ہوتا ہے۔ اس میں کتنے کا کوئی تعین نہیں کیا جا سکتا حدیث کے لحاظ سے، لیکن اس میں وہ بارات کی شکل نہیں ہونا چاہیے، دو چار پانچ آدمی، والدین وغیرہ چلے جائیں، والدین نہ ہوں تو بڑے بھائی، والدہ وغیرہ جو بھی ہیں اس کے چند افراد چلے جائیں۔