:سوال
فرقہ پرست کہتے ہیں، یا رسول اللہ کہنا شرک نہیں ہے کیونکہ ہم صلاۃ کی تشہد میں ‘ایُّھَا النَّبِیُّ’ کہتے کہتے ہیں تو وہاں بھی، کہاں سے؟
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
وہاں جو ‘ایُّھَا النَّبِیُّ’ کہا جاتا ہے السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ تو یہ ‘ایُّھَا النَّبِیُّ’ جو ہے، یہ ایسے ہی ہے جیسے ‘یا’ کہا جائے، نکرہ مخاطب ہو اگر نکرہ کو خطاب کیا جائے تو اس میں ‘یا’ کہنا کافی ہے اور الف لام، لامِ تعریف کے ساتھ اگر مخاطب کیا جائے تو ‘یا ایُّھَا’۔ ‘یا ایُّھَا’ لگاتے ہیں۔ تو اس میں کبھی ‘یا’ گرا بھی دیتے ہیں، صرف ‘ایُّھَا’ کہہ دیتے ہیں، یہ دونوں چ، بات وہی ہے۔
تو یہ خطاب، خطاب کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ دعا کے لیے ہے جیسے ‘یا’ بھی دعا کے لیے استعمال ہوتا ہے جب ہم قبرستان جاتے ہیں، ‘السلام علیکم یا اھل دیار المؤمنین’ تو یہ ‘یا’ جو ہے دعا کے لیے ہے، خطاب کے لیے نہیں۔ اسی طرح ‘ایُّھَا النَّبِیُّ’ یہاں جو ہے صلاۃ میں، تشہد میں، یہ دعا کے لیے دعائیہ ہے، خطابیہ نہیں ہے۔
وہ کرتے ہیں اس عقیدے کے ساتھ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حاضر و ناظر ہیں اور وہ سنتے ہیں تو یہ عقیدہ جو ہے خالص مشرکانہ ہے۔