:سوال
کیا مومن کسی مشرک کی رسم و رواج والے، شاد، والی شادی میں شمولیت کر سکتا ہے؟
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
ایمان کا تقاضا تو یہ ہے کہ ان کے تمام طور طریقوں سے بیزاری کا اظہار کیا جائے
مومن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ رسومات کو توڑتا ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: {مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ}۔
ابھی تقریر میں بھی یہ بات بتائی گئی تھی۔ جو کوئی منکر چیز کو دیکھے، اس کو چاہیے کہ ہاتھ سے روک دے، یعنی طاقت سے روک دے۔ جب اسلامی طاقت ہو، تو طاقت سے روکا جا سکتا ہے، اس کے بغیر زبان سے منع کرنا چاہیے۔ چنانچہ فرمایا: {فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ}۔ اگر طاقت سے نہیں روک سکتا، ہاتھ سے نہیں روک سکتا، تو زبان کھولے، زبان سے منع کرے اس کو۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس سے اس کو منع کیا جائے۔ یہ ‘نہی عن المنکر’ کا جو حکم ہے، اس کے مطابق اور اللہ کے عذاب سے ڈرایا جائے۔ اگر یہ بھی نہیں کر سکتا، {فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ}۔ اور اگر زبان بھی نہیں کھول سکتا ہے، حالات اجازت نہیں دیتے ہیں، تو پھر دل میں برا جانے اور دل میں برا جاننے کا تقاضا یہ ہے کہ ایسی جگہ ایک لمحے کے لیے بھی نہ ٹھہرے جہاں اللہ کی نافرمانی ہو رہی ہو، شیطانی عمل ہو رہا ہو۔
جو میں، مومن ایسا کرے، اس کے لیے کیا حکم ہے؟ اس کے لیے کیا حکم ہے جو مومن ایسا کرتا ہے؟ وہ شریعت کی خلاف ورزی کر رہا ہے، گناہ گار ہے۔ ایمان والا ہوتے ہوئے ایسا کر رہا ہے، اس کے لیے یہ زیب نہیں دیتا ہے، اس کو منع کیا جائے گا، روکا جائے گا اور اگر وہ مسلسل اس پر اصرار کرے، تو چاہیے تو یہ کہ منع کرنے پر وہ احساس دلانے پر وہ توبہ کرے اور آئندہ کے لیے اس سے اجتناب کرنے کا وعدہ کرے۔ اگر یہ نہیں کرتا ہے، تو پھر سوچا جائے گا اس کے خلاف کچھ تادیبی کارروائی کی جائے گی۔