اللہ کا فرمان ہے کہ گنہگاروں کے لیے آسمانوں کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے (وضاحت کریں)

:سوال

سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اللہ کا فرمان ہے کہ گنہگاروں کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے، قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت کریں۔

: جواب از محمد حنیف صاحبؒ

یہ اس سے یہی مراد ہے، دیکھئے جس کی بھی روح قبض کر لی جاتی ہے، وہ تو چلی جاتی ہے برزخ میں، زمین میں نہیں گھومتی پھرتی۔ یہ گھومنے پھرنے کا عقیدہ جو ہے ہندوؤں کے ہیں اور ان مسلک پرستوں کے ہیں۔ قرآن و حدیث سے یہ عقیدہ ثابت نہیں ہے کہ روح گھومتی پھرتی ہو۔ اس لیے جو چیز نصِ قطعی سے ثابت ہے وہ یہی ہے کہ روحیں مومنوں کی بھی اور مشرکوں کی بھی، عالمِ برزخ میں جاتی ہیں۔

​مومنوں صالحین کی روحوں کا، انبیاء علیہم السلام ہیں، صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہیں، شہداء ہیں، صدیقین ہیں، ان کی ارواح جو ہوتی ہیں، وہ جنتوں میں ان کو جنت کی راحتیں ملتی ہیں عالمِ برزخ میں۔ اور کفار و مشرکین کی روحوں کو جہنم کا عذاب ملتا ہے۔ فرعون کے بارے میں تو بتا دیا، وہ بھی تو کافر مرا نا؟ غرق ہو کے مرا، کافر مرا، تو کیا اس کی روح کو داخل نہیں ہونا؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّاۖ” یہ فرعونی جو ہیں، ان پر آگ کا عذاب یہ آگ کے عذاب پر پیش کیے جاتے ہیں صبح شام، یعنی عذاب ہوتا رہتا ہے ان کو آگ کا، اور ان کو بتایا جاتا ہے کہ جب قیامت قائم ہوگی تو حکم ہوگا: “أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ” فرعونیوں کو اب شدید عذاب میں داخل کر دو۔ تو عذاب تو ہو رہا ہے وہیں برزخ میں۔

​یہ عالمِ برزخ وہ ہے دنیا کے علاوہ جہاں روح چلی جاتی ہے، اس کا ٹھکانا۔ مومن کی روح کا ٹھکانا جنت کی راحتیں، مشرکوں کی روح کا ٹھکانا جہنم کی آگ۔ یہ کتنی اور دوسری روایتوں سے بھی ثابت ہے، ام رعیہ الخزاعیہ کے لیے بھی ثابت ہے۔ نبی علیہ السلام کے بیٹے، شیر خوار بیٹے ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات ہوئی، نبی علیہ السلام نے فرمایا: ان کی رضاعت کے لیے ایک ماں ان کو دے دی گئی ہے جنت میں۔ تو وہ کہاں ہے جنت؟ عالمِ برزخ ہے وہ۔ اسی طرح شہداء کی جنت میں ان کے مساکن بتائے گئے، عرشِ معلیٰ ان کے محلات ہیں۔

​تو یہ عالمِ برزخ کا معاملہ ہے، ان کی روحیں یہاں گھومتی نہیں پھرتی ہیں بلکہ عالمِ برزخ میں، جہنم میں چلی جاتی ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے قرآن کی اس آیت سے کہ ان کے لیے اللہ کی رحمت کے دروازے نہیں کھولے جاتے۔ خیر و برکت کے دروازے ان کے لیے نہیں کھولے جاتے۔ اس دنیا میں بھی اللہ کی رحمت سے اور برکت سے محروم رہتے ہیں اور مر جانے کے بعد وہ جہنم کے عذاب میں چلے جاتے ہیں، اللہ کی رحم سے، اللہ کی رحمت سے محروم رہتے ہیں، اس کے دروازہ نہیں کھلتا ان کے لیے۔

تلاش کریں