:سوال
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ! امام بخاری، حسن بصری کا قول صحیح بخاری میں نقل کرتے ہیں کہ حسن بصری نے فرمایا کہ بدعتی کی اقتدا میں نماز پڑھنا جائز ہے، اس کی بدعت کا وبال اسی پر ہے، بخاری جلد اول۔؟
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
یہ بات بھی صحیح ہے لیکن ایک حدیث کے اوپر اصل میں کوئی فیصلہ نہیں ہوتا، دوسری احادیث بھی لی جاتی ہیں۔ نبی علیہ السلام فرمایا: جو بدعتی کی تعظیم کرتا ہے وہ دین کی عمارت کو گراتا ہے، اللہ کے عرش کو ہلاتا ہے۔ تو اس لیے بدعتی تعظیم تو ہوتی ہے اس کی جب امام بنایا جائے گا اور عام طور سے جو بدعتی ہوتے ہیں وہ مشرک ہوتے ہیں، ایسے خالی مومن بدعتی نہیں ہوا کرتے۔ تو اس لیے یہ خالی ایسا سوال پوچھنا جو ہے یہ اس سے بہتر یہ ہے کہ کسی بدعتی کے پیچھے نماز نہ پڑھی جائے جب تک کہ آپ کو کوئی مومن نہ ملے، وہ مجبوری ہو تو اور بات ہے اور جائز نہیں تو پھر۔ ہم کسی کے قول میں، ہر ایک کی ان کی اپنی معلوم ہے، کسی پہ فتویٰ نہیں لگاتے لیکن یہ کہ احادیث کئی ہوتی ہیں تو اس کے بعد اس کی روشنی میں فیصلہ کیا جاتا ہے۔