کیا جمعہ کی صلوۃ کے بعد چار سنت مؤکدہ ہیں؟
جی ہاں، جمعہ کی صلوۃ کے بعد چارسنتیں پڑھنے کا ثبوت صحیح احادیث سے موجود ہے، لیکن ان کی تعداد
جی ہاں، جمعہ کی صلوۃ کے بعد چارسنتیں پڑھنے کا ثبوت صحیح احادیث سے موجود ہے، لیکن ان کی تعداد
جی نہیں، الصلاة خير من النوم (صلوۃ نیند سے بہتر ہے) ہر اذان میں کہنا درست نہیں ہے بلکہ یہ
جی ہاں، جمعے کے خطبے سے پہلے اجتماعی طور پر بلند آواز سے درود پڑھنا بدعت ہے، کیونکہ نہ نبی
نوافل کا اصل طریقہ انفرادی پڑھنا ہے، جماعت کے ساتھ ان کو لازم کر لینا یا مستقل پورا سال جماعت
عورت اور مرد کی صلوۃ ایک جیسی ہے، شریعت نے صلوۃ میں عورت اور مرد کے طریقے کو الگ نہیں
ایک رکعت بھی درست ہے اور تین بھی نبی ﷺ نے فرمایاالوتر ركعة من آخر الليلوتر رات کے آخر میں
صلوٰۃ میں آمین کہنا سنت ہے، اور اسے بلند آواز سے کہنا بھی سنت ہے، بدعت نہیں۔ رسول اللہ ﷺ
صلاۃ میں رفع یدین (ہاتھ اٹھانا یعنی رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے اور تیسری رکعت کے آغاز میں)