نوافل کا اصل طریقہ انفرادی پڑھنا ہے، جماعت کے ساتھ ان کو لازم کر لینا یا مستقل پورا سال جماعت قائم کرنا بدعت کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے
وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَكَ
رات کے کچھ حصے میں اس کے ساتھ تہجد پڑھ، یہ تیرے لیے نفل ہے۔
(الإسراء 79)
یہ انفرادی طور پر پڑھنے کی طرف رہنمائی ہے۔
نبی ﷺ سے نوافل بالعموم انفرادی ثابت ہیں۔ البتہ رمضان میں قیام الیل المعروف تراویح کی جماعت آپ ﷺ نے متعدد دن کروائی، پھر فرما دیا کہ تم پر فرض نہ ہو جائے اس لیے میں باقاعدہ جماعت کے ساتھ نہیں پڑھاؤں گا ۔
صحیح بخاری : كتاب التهجد:باب تحريض النبى صلى الله عليه وسلم على صلاة الليل۔۔۔:1129
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کبھی کبھار اجتماع جائز ہے مگرپورے سال اسے لازم یا مستقل بنانا بدعت کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔