کیا نوافل باجماعت ادا کرنا بدعت ہے؟

نوافل کا اصل طریقہ انفرادی پڑھنا ہے، جماعت کے ساتھ ان کو لازم کر لینا یا مستقل پورا سال جماعت قائم کرنا بدعت کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے
وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَكَ
رات کے کچھ حصے میں اس کے ساتھ تہجد پڑھ، یہ تیرے لیے نفل ہے۔
(الإسراء 79)
یہ انفرادی طور پر پڑھنے کی طرف رہنمائی ہے۔

نبی ﷺ سے نوافل بالعموم انفرادی ثابت ہیں۔ البتہ رمضان میں قیام الیل المعروف تراویح کی جماعت آپ ﷺ نے متعدد دن کروائی، پھر فرما دیا کہ تم پر فرض نہ ہو جائے اس لیے میں باقاعدہ جماعت کے ساتھ نہیں پڑھاؤں گا (بخاری 1129، مسلم 761)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کبھی کبھار اجتماع جائز ہے مگرپورے سال اسے لازم یا مستقل بنانا بدعت کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

تلاش کریں