کیا رفع یدین صلوۃ میں ضروری ہے؟

صلاۃ میں رفع یدین (ہاتھ اٹھانا یعنی رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے اور تیسری رکعت کے آغاز میں) نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے اور یہ آپ ﷺ کی سنت ہے، لیکن اس کے بغیر بھی صلوۃ درست ہوتی ہے۔ بعض صحابہؓ سے عدم رفع یدین سے مروی ہے اور رفع یدین بھی ثابت ہے اور بعض سے صرف تکبیرِ تحریمہ کے وقت ہاتھ اٹھانا منقول ہے، اس لیے دونوں عمل سنت کے دائرے میں ہیں۔

قرآن میں فرمایا گیا
وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا
جو کچھ رسول تمہیں دیں اسے لے لو اور جس سے روکیں اس سے رک جاؤ۔
(الحشر: 7)

عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع کرتے تو ہاتھ اٹھاتے، جب رکوع کو جاتے تو ہاتھ اٹھاتے، اور جب رکوع سے اٹھتے تو بھی ہاتھ اٹھاتے۔
صحيح البخاري – كتاب الأذان – باب رفع اليدين في التكبيرة الأولى مع الافتتاح سواء:735

ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تم سب سے زیادہ یاد ہے میں نے آپ کو دیکھا کہ جب آپ تکبیر کہتے تو اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک لے جاتے، جب آپ رکوع کرتے تو گھٹنوں کو اپنے ہاتھوں سے پوری طرح پکڑ لیتے اور پیٹھ کو جھکا دیتے۔ پھر جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اس طرح سیدھے کھڑے ہو جاتے کہ تمام جوڑ سیدھے ہو جاتے۔ جب آپ سجدہ کرتے تو آپ اپنے ہاتھوں کو (زمین پر) اس طرح رکھتے کہ نہ بالکل پھیلے ہوئے ہوتے اور نہ سمٹے ہوئے۔ پاؤں کی انگلیوں کے منہ قبلہ کی طرف رکھتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتوں کے بعد بیٹھتے تو بائیں پاؤں پر بیٹھتے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھتے اور جب آخری رکعت میں بیٹھتے بائیں پاؤں کو آگے کر لیتے اور دائیں کو کھڑا کر دیتے پھر مقعد پر بیٹھتے۔
صحيح البخاري – كتاب الأذان – باب سنة الجلوس في التشهد:828
اس روایت میں رفع الیدین صرف تکبیرِ تحریمہ کے وقت بتایا گیا ہے، رکوع جاتے اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع الیدین نہیں سکھایا گیا۔

اس سے معلوم ہوا کہ رفع یدین کرنا بھی سنت ہے اور نہ کرنا بھی سنت کے مطابق ہے، کیونکہ دونوں طریقے نبی ﷺ اور صحابہؓ سے منقول ہیں۔ کسی ایک عمل کو خاص کرنا جائز نہیں یا اختلاف میں کسی کو بدعتی یا گمراہ کہنا درست نہیں بلکہ سب کو سنت پر عمل کرنے والا سمجھنا چاہیے۔

تلاش کریں