کیا کسی نیک شخص کی قبر سے برکت حاصل ہوتی ہے؟
یہ مسئلہ براہِ راست عقیدۂ توحید سے تعلق رکھتا ہے۔ قبر سے برکت حاصل کرنے کا تصور دراصل امتوں کی
یہ مسئلہ براہِ راست عقیدۂ توحید سے تعلق رکھتا ہے۔ قبر سے برکت حاصل کرنے کا تصور دراصل امتوں کی
قبروں پر بیٹھنا یا سونا قرآن و سنت کی روشنی میں درست نہیں اور یہ بدعت اور ناپسندیدہ عمل شمار
قبر پر جھک کر سلام کرنا قرآن و سنت کی روشنی میں کفریہ عمل ہے اور یہ شرک اور بدعت
قبروں پر پھول چڑھانا شرعی اعتبار سے درست نہیں اور یہ بدعت شمار ہوتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہےوَمَآ اٰتٰىكُمُ
قبر پر قرآن پڑھنا جائز نہیں ہے، اللہ اور نبی ﷺ کی ہدایت کے مطابق قرآن کی تلاوت اور عبادت
مردوں کی روحیں زندہ لوگوں کے پاس آنا قرآن و سنت کی روشنی میں درست عقیدہ نہیں ہے اللہ تعالیٰ
نبی ﷺ اور اولیاء اللہ کی قبروں سے مدد لینے کا عقیدہ قرآن و سنت کی روشنی میں درست نہیں۔
یہ عقیدہ کہ نبی ﷺ کا کوئی سایہ نہیں تھا اس لئے یہ ان کے نور ہونے کی دلیل ہے،
نبی ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے تمام علومِ اولین و آخرین عطا نہیں فرمائے۔ ان پر صرف وہی علم نازل
مرنے کے بعد روح برزخ میں راحت یا عذاب پاتی ہے۔ جسمانی جسد مٹی میں مل کر فنا ہو جاتا