کیا قبر پر قرآن پڑھنا جائز ہے؟

قبر پر قرآن پڑھنا جائز نہیں ہے، اللہ اور نبی ﷺ کی ہدایت کے مطابق قرآن کی تلاوت اور عبادت کا مقصد صرف اللہ کی رضا اور ہدایت کی روشنی حاصل کرنا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ بلکہ گھروں میں قرآن، خصوصاً سورۃ بقرہ، پڑھا کرو۔ یہ بتاتا ہے کہ تلاوت قبر یا مردے کے لیے مخصوص نہیں بلکہ زندوں کی رہنمائی اور باطنی فائدے کے لیے ہے۔

لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ، إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْفِرُ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِي تُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ
یعنی اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ اور قبروں کو عبادت کے لیے مخصوص نہ کرو بلکہ اپنے گھروں میں سورۃ بقرہ پڑھا کرو۔
 صحيح مسلم – كتاب صلاة المسافرين وقصرها – باب استحباب صلاة النافلة فِي بيته وجوازها فِي المسجد:780

قبر پر قرآن پڑھنے کا رواج بعد میں پیدا ہوا اور یہ بدعت ہے کیونکہ یہ عمل مردے کی طرف توجہ دلاتا ہے اور اصل عبادت کا مقصد اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم کرنا نہیں رہتا۔ صحابہ کرامؓ کی مثال بھی یہی ہے کہ قرآن کی تلاوت گھر یا مسجد میں کرتے تھے، قبروں پر نہیں۔

تلاش کریں