کیا قبر پر جھک کر سلام کرنا شرک ہے؟

قبر پر جھک کر سلام کرنا قرآن و سنت کی روشنی میں کفریہ عمل ہے اور یہ شرک اور بدعت کے زمرے میں آتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ
یعنی تم ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں۔
(فاطر: 22)

قبر پر جھک کر سلام کرنا مردے کے لیے توجہ مرکوز کرنے کے مترادف ہے اور اصل عبادت یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا اور دعا سے توجہ ہٹا دیتا ہے۔ صحابہ کرامؓ کی عملی مثال یہ ہے کہ وہ قبروں پر نہ جھکتے اور نہ مردوں کے لیے عبادتی اعمال کرتے تھے۔ قرآن اور سنت واضح کرتی ہیں کہ مردہ زندوں کی طرح نہیں سنتا اور نہ اس کے لیے کوئی عبادتی رسومات جائز ہیں۔

لہذا قبر پر جھک کر سلام کرنا شرعی اعتبار سے شرک کے مترادف ہے اور یہ عمل توحید کے اصول کے خلاف ہے۔ حقیقی عبادت، سلام اور دعا صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اور قرب کے لیے ہونی چاہیے۔

تلاش کریں