کیا قبروں پر پھول چڑھانا درست ہے؟

قبروں پر پھول چڑھانا شرعی اعتبار سے درست نہیں اور یہ بدعت شمار ہوتا ہے

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا وَاتَّقُوا اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ ۝
اور رسول تمہیں جو کچھ دیں وہ لے لو، اور وہ جس چیز  کے لینے  سے تمہیں روکیں، اس سے رک جاؤ۔ اور اللہ سے ڈرو۔ یقینا اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے۔
یعنی تم ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں۔ الحشر:7

نبی ﷺ نے فرمایا
لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ، إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْفِرُ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِي تُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ
یعنی اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ اور قبروں کو عبادت کے لیے مخصوص نہ کرو بلکہ اپنے گھروں میں سورۃ بقرہ پڑھا کرو۔
 صحيح مسلم – كتاب صلاة المسافرين وقصرها – باب استحباب صلاة النافلة فِي بيته وجوازها فِي المسجد:780

قبروں پر پھول چڑھانا مردے کے لیے توجہ مرکوز کرتا ہے اور اصل عبادت یعنی اللہ کی رضا حاصل کرنے سے توجہ ہٹا دیتا ہے۔ قرآن واضح کرتا ہے کہ مردے زندوں کو نہیں سنتے اور نبی ﷺ نے قبر پر کسی قسم کی عبادت یا رسم کی اجازت نہیں دی۔ صحابہ کرامؓ اور سلف صالحین کی عملی مثال بھی یہی ہے کہ قبروں پر پھول یا کسی دوسری رسم کو نہیں اپناتے تھے

قبروں پر پھول چڑھانا شرعی طور پر جائز نہیں، عبادت اور نیکی کا ذریعہ صرف اللہ کی رضا اور تلاوت قرآن ہے، اور یہ عمل توحید کے اصول کے مطابق نہیں ہے۔

تلاش کریں