کیا شبِ برات قرآن و سنت سے ثابت ہے؟
شبِ برات قرآن و سنت سے ثابت نہیں ہے، بلکہ یہ ایک بعد کی بدعت ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہےاِتَّبِعُوْا مَآ
شبِ برات قرآن و سنت سے ثابت نہیں ہے، بلکہ یہ ایک بعد کی بدعت ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہےاِتَّبِعُوْا مَآ
دین اسلام میں عیدیں صرف دو ہی ہیں۔ یہ بریلویوں میں تیسری عید قرآن و سنت کی روشنی میں عید
فاتحہ خوانی بذات خود ایک بدعت ہے اور اسکے لیے خاص طور پر کھانے کا اہتمام کرنا مزید گمراہی ہے
قرآن و سنت کی روشنی میں گیارہویں، بارہویں یا چالیسویں وغیرہ کی محفل کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ نہ رسول
قرآن و سنت کی روشنی میں دین صرف وہی ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے بتایا ہے۔
اذکار اور تسبیحات اصل میں دل، زبان اور عمل سے اللہ کو یاد کرنے کا نام ہے، اور نبی کریم
جی ہاں، بعض اذکار کی مخصوص تعداد خود نبی کریم ﷺ نے تعلیم فرمائی ہے، اور وہی مشروع و سنت
ایک اندھیرے پر دوسرا اندھیرا، ختمِ قرآن کرنا خود ایک بدعت ہے اور اس موقع پر دعائیں مخصوص کرنا بھی۔
یہ عمل نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرامؓ سے ثابت نہیں ہے، اس لیے اسے سنت کہنا درست نہیں بلکہ
جی ہاں، کسی مستند روایت سے غیر ثابت وظیفے کو شریعت میں لازمی اور دین کا حصہ سمجھنا بدعت ہے،