کیا اذکار کی مخصوص تعداد حدیث سے مقرر ہے؟

جی ہاں، بعض اذکار کی مخصوص تعداد خود نبی کریم ﷺ نے تعلیم فرمائی ہے، اور وہی مشروع و سنت ہیں۔ لیکن جو اذکار کی تعداد قرآن و صحیح حدیث سے ثابت نہیں، ان کے لیے کوئی خاص عدد مقرر کرنا بدعت ہے۔

قرآن میں ذکر کی اصل
فَٱذۡكُرُواْ ٱللَّهَ كَذِكۡرِكُمۡ ءَابَآءَكُمۡ أَوۡ أَشَدَّ ذِكۡرٗا
اللہ کو یاد کرو جیسے تم اپنے باپ دادا کو یاد کرتے ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ یاد کرو۔
(البقرۃ 200)

نبی ﷺ نے فرمایا
صلاۃ کے بعد تسبیح (سبحان اللہ 33، الحمد للہ 33، اللہ اکبر 34) کی تعداد بھی حدیث سے ثابت ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لو میں تمہیں ایک ایسا عمل بتاتا ہوں کہ اگر تم اس کی پابندی کرو گے تو جو لوگ تم سے آگے بڑھ چکے ہیں انہیں تم پا لو گے اور تمہارے مرتبہ تک پھر کوئی نہیں پہنچ سکتا اور تم سب سے اچھے ہو جاؤ گے سوا ان کے جو یہی عمل شروع کر دیں ہر نماز کے بعد تینتیس تینتیس مرتبہ تسبیح سبحان الله، تحمید الحمد لله، تکبیر الله أكبر کہا کرو۔ پھر ہم میں اختلاف ہو گیا کسی نے کہا کہ ہم تسبیح «سبحان الله» تینتیس مرتبہ، تحمید «الحمد لله» تینتیس مرتبہ اور تکبیر «الله أكبر» چونتیس مرتبہ کہیں گے۔ میں نے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوبارہ معلوم کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ «سبحان الله»، «الحمد لله» اور «الله أكبر» کہو تاآنکہ ہر ایک ان میں سے تینتیس مرتبہ ہو جائے۔ (صحيح البخاري: كتاب الأذان (صفة الصلوة): حدیث: 843)

لہٰذا جہاں نبی ﷺ نے تعداد مقرر فرمائی، وہاں اسی پر عمل کرنا لازم ہے۔ لیکن جہاں کوئی عدد مقرر نہیں، وہاں کسی خاص تعداد کو لازم سمجھنا دین میں اضافہ اور بدعت ہے۔

تلاش کریں