کیا کسی شیخ کے بتائے ہوئے ذکر کو فرض سمجھنا درست ہے؟

قرآن و سنت کی روشنی میں دین صرف وہی ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے بتایا ہے۔ محض کسی شیخ یا بزرگ کے بتائے ہوئے ذکر کو بغیر مستند دلیل کے لازمی یا فرض سمجھنا بدعت اور گمراہی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا
آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا، اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کے طور پر پسند کیا۔
(المائدة: 3)

یہ آیت بتاتی ہے کہ دین مکمل ہو چکا ہے، اب کسی نئے ذکر یا عبادت کو فرض یا لازمی قرار دینا دین میں اضافہ ہے، جو شرعاً ناجائز ہے۔

نبی ﷺ نے فرمایا
مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ فِيهِ فَهُوَ رَدٌّ
جس نے ہمارے دین میں کوئی نئی چیز پیدا کی جو اس میں سے نہیں، وہ مردود ہے۔
(صحیح بخاری 2697، صحیح مسلم 1718)

اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کسی شیخ یا بزرگ کے بغیر مستند دلیل کے بتائے گئے ذکر کو سنت کے برابر یا فرض سمجھنا دین میں اضافہ ہے، اور یہ بدعت ہے۔ ذکر وہی معتبر ہے جو قرآن و حدیث میں آیا ہو۔

تلاش کریں