شبِ برات قرآن و سنت سے ثابت نہیں ہے، بلکہ یہ ایک بعد کی بدعت ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖٓ اَوْلِيَاۗءَ قَلِيْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ
اس کی پیروی کرو جو کچھ تمھاری طرف نازل کیا گیا ہے تمھارے ربّ کی طرف سے اور اس کو چھوڑ کر دوسرے حاکموں (شریعت سازوں) کی پیروی نہ کرو تم لوگ بہت ہی کم نصیحت حاصل کرتے ہو۔
(الأعراف، 3)
شب برات خیر القرون میں نہیں منائی گئی اور نہ نبی کریم ﷺ نے شب برات کی کوئی خاص عبادت، روزہ، یا محفل مقرر نہیں کی۔ نہ صحابہ کرامؓ نے اسے منایا اور نہ تابعینؒ نے۔ بلکہ آپ ﷺ نے دین میں نئی بات سے خبردار فرمایا
إِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الأُمُورِ، فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلاَلَةٌ
تم نئی ایجاد شدہ باتوں سے بچو، کیونکہ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔
(سنن ابی داؤد، حدیث 4607)
لہٰذا شبِ برات منانا، عبادات اور محفلیں منعقد کرنا قرآن و سنت سے ثابت نہیں، بلکہ خالص بدعت ہے۔ دین کی اصل بنیاد وہی ہے جو نبی ﷺ اور صحابہ کرامؓ نے ہمیں دی۔