:سوال
اگر مسجد نزدیک ہو تو عورت مسجد میں علیحدہ پردے میں اعتکاف بیٹھ سکتی ہے؟
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
خواتین کو نہیں بیٹھنا چاہیے، اپنے گھر میں بیٹھیں اگر بیٹھـ بیٹھتی ہیں تو۔ باقی یہ ہے کہ اعتکاف ان کے لیے ضروری نہیں ہے، صرف یہ ہے کہ صلاۃ الجمعہ وغیرہ میں یا تراویح میں اگر ان کو آسانی ہو اور کر سکتی ہوں تو اس میں شرکت کر لیں۔ باقی اعتکاف میں نہ بیٹھیں، یہ اعتکاف مردوں کے لیے ہے، ان کا تزکیہٴ نفس اپنے گھر کے ہی لیے ہے، گھر میں ہی جتنی عبادت چاہیں کریں، رات کو قیام اللیل کریں، یہ اس کی تاکید ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا قَامَ وَصَلَّى۔ اللہ کا رحم اس مرد کے اوپر جو اٹھا اور اس نے صلاۃ ادا کی، کی وَأَيْقَظَ زَوْجَتَهُ۔ اپنی اس نے بیوی کو بھی جگایا قَامَتْ وَصَلَّتْ۔ اس نے بھی اٹھ کر صلاۃ ادا کی۔ فَإِنْ أَبَتْ اگر اس نے انکار کیا تو اس کے چہرے پر پانی چھڑکا، وہ اٹھی اور اس نے صلاۃ کی، اسی طرح رَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً اللہ کا رحم اس خاتون پر قَامَتْ وَصَلَّتْ جس نے قیامـ اٹھی اور قیام اللیل کیا اور اپنے شوہر کو بھی جگایا، انکار کیا تو اس کے چہرے پر پانی۔
تو یہ قیام اللیل جو ہے یہ ان کے لیے اس کی زیادہ تاکید ہے، یہ کرنا چاہیے، اس سے تزکیہٴ نفس بھی ہوتا ہے، بہت ثواب اس کا ملتا ہے، دعائیں قبول ہوتی ہیں ان ان لمحات میں تو خواتین کو یہ کرنا چاہیے۔ اعتکاف ان کے لیے ضروری نہیں ہے، ان کی ذمہ داریاں گھر کی ہیں، شوہر کی خدمت ہے، اپنے گھر کی خانہ داری کی ذمہ داریاں ہیں، بچوں کی تربیت ہے۔ خواتین بوڑھی بھی ہوں تو بھی بہتر یہ ہے ان کے لیے کہ گھر میں ہی رہیں کیونکہ وہ مساجد میں ان کے لیے اتنا اہتمام نہیں ہوتا ہے اور پریشانی ہوتی ہے ان کے لیے۔ ایسا ہمیں حدیث سے بھی نہیں ملتا ہے، نبی علیہ السلام کی امہات نے، امہات المومنین نے ایک دفعہ لگوائے خیمے تو آپ نے اس کو ہٹوا دیا خیموں کو، خود بھی نہیں کیا اعتکاف۔تو باقی یہ ہے کہ مناسب یہ نہیں۔