:سوال
ایک مومن صلاۃِ مکتوبہ میں علاوہ سفر اگر سنت کو چھوڑ بھی دے اور کبھی پڑھے اور یہ نظریہ رکھے کہ سنت کے ترک کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، نہ پڑھی جائیں تو خیر ہے یا کبھی بھی پڑھ لی جائیں، اس کے باوجود۔
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پہـ صلی اللہ علیہ وسلم جس بات کی تاکید کریں تو کیا ہم اپنی عقل استعمال کریں گے کہ اس کو کبھی پڑھی جائے، کیوں چھوڑ دیں؟ یہ تو آپ کا نبی علیہ السلام کی سنت کے ساتھ بے نیازی اور بے پرواہی ہے اور یہ نبی علیہ السلام سے ہمارا جو تعلق ہونا چاہیے محبت کا اور ان کے ہر حکم کو اہمیت دینے کا، یہ انداز نہیں ہونا چاہیے۔
نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ بارہ رکعات جو ہیں یہ پڑھنا ہے آپ کو پانچ وقت کی نمازوں میں اور اس کی تاکید بھی فرمائی ہے، آپ نے ہمیشہ پڑھا ہے۔ یہ تو پڑھنا چاہیے ہمیں، اس کو ترک نہ کرنا چاہیے بلکہ نبی علیہ السلام تو یہ تھا کہ آپ کی اگر سنتیں ترک ہو جاتی تھیں تو آپ اس کی قضا پڑھتے تھے۔
آپ نے عصر کے بعد مغرب تک کوئی صلاۃ نفل پڑھنے سے منع کیا۔ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں آپ نے دو رکعت پڑھیں، انہوں نے کہا آپ نے منع کیا ہے اس وقت کہـ تو جواب دیا کہ فلاں وفد آیا تھا، میری ظہر کی سنتیں رہ گئی تھیں۔ تو آپ تو اپنی سنتوں کی بھی قضا کرتے تھے، تو ہم کیوں چھوڑیں اس کو؟ ہمیں نہیں چھوڑنا چاہیے۔ بہت ہی شوق کے ساتھ، ذوق کے ساتھ اس کو پڑھنا چاہیے۔