:سوال
سوال یہ ہے کہ ہمارے جو ساتھی رخساروں سے بال صاف کرتے ہیں، کیا یہ جائز ہے؟
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
داڑھی کے معاملے میں تو یہی ہے کہ کوئی قینچی وغیرہ کا استعمال کہیں ملتا نہیں ہے، نہ قینچی نہ استرا، اور یہ جو خط وغیرہ کا معاملہ کہتے ہیں، اس کا ہمیں حدیث میں کہیں الفاظ نہیں ملتے۔ داڑھی چھوڑنے کے الفاظ ملتے ہیں کہ اس کو تو ٹچ ہی نہ کیا جائے، اس پہ کوئی قینچی، کوئی چیز استعمال نہ کی جائے جیسی ہے۔ کنگھا بس کر سکتے ہیں آپ، کنگھا کر سکتے ہیں۔
علم رکھنے والے ساتھی میں اگر کوئی نہیں ہے، روشنی ڈالیں کہ کیا یہ جائز ہے؟ تفصیل سے بتائیں، علم رکھنے والے ساتھی ہیں؟
(دوسری آواز: یہ علم ساتھی والے، کوئی عام ساتھی نہیں ہے)
اچھا جو ایسا کرتے ہیں؟ تو ان کو تلقین کیجیے، بتائیے، اس کو مسئلہ نہ بنائیے۔ بہرحال داڑھی رکھے ہوئے ہیں، ٹھیک ہے لیکن یہ کہ داڑھی رکھنا چاہیے ہمیں فیشن کے طور پہ نہیں، اپنے چہرے کو سجانے کے لیے نہیں، کسی کو دکھانے کے لیے نہیں بلکہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا احترام دل میں لیے ہوئے، اور اس میں جب حدیث کا قول ملتا ہے، قولِ حدیث جو ہوتی ہے قولی حدیث، وہ حکم کا درجہ رکھتی ہے۔
تو اس میں یہی ہے کہ داڑھی کو چھوڑو! لبیں تراشو! یہ مونچھیں لبیں جو ہیں، ان کو تراشا جائے، اس پر قینچی استعمال کر سکتے ہیں اور داڑھی کو چھوڑ دینا ہے بالکل جیسے ہے، کنگھا کر سکتے ہیں بس۔
اور آپ اگر صرف کنگھا کریں گے، استعمال نہیں کریں گے تو بال ادھر ادھر نکلیں گے بھی نہیں، بال اسی وقت نکلتے ہیں جب اس پہ کچھ استعمال کیا جاتا ہے، کاٹا جاتا ہے ان کو۔