اگر ایک شخص امام صاحب کے ساتھ تیسری یا چوتھی رکعت میں ملے تو باقی نماز کیسے پڑھے؟

:سوال

اگر ایک شخص فرضوں کی تیسری یا چوتھی رکعت میں امام صاحب کے ساتھ صلاۃ ادا کرے، رکعت میں امام صاحب کے سلام پھیرنے کے بعد وہ کس طرح صلاۃ شروع کرے؟

: جواب از محمد حنیف صاحبؒ

 اب امام صاحب کے ساتھ اس کو اگر تیسری رکعت ملی ہے، تیسری رکعت اس کو مل گئی ہے تو دو رکعت اس کی چھوٹ گئی ہیں۔ تو اب یہ بقیہ دو رکعت جو پڑھے گا وہ اپنی پڑھے گا۔ تو اس کو پہلی اور دوسری رکعت پڑھنی ہوگی تو اس میں وہ سورہ فاتحہ کے ساتھ قرأت بھی کرے گا۔

​اور اگر صرف ایک رکعت ملی ہے اس کو تو اس میں ایک رکعت بھی اس کو وہ سورہ فاتحہ والی ملی ہے، قرأت والی نہیں ملی، تو اس کے بعد وہ تین رکعت اپنی پڑھے گا تو پہلی دو رکعت میں قرأت کرے گا اور اس کی اپنی صلاۃ کی جو تیسری رکعت ہوگی وہ اس کی صلاۃ کی چوتھی رکعت ہوگی اپنی صلاۃ کی، امام کے بعد اس کی تیسری رکعت ہوگی، تو اس میں وہ صرف سورہ فاتحہ پڑھے گا۔ تو اس کی دو رکعت اس طرح قرأت کے ساتھ ہو جائیں گی اور دو رکعت صرف سورہ فاتحہ کے ساتھ۔

​یہ طریقہ معلوم ہوتا ہے کیونکہ حدیث میں الفاظ آتے ہیں کہ جو آپ کی چیز چھوٹ گئی، جو رکعت چھوٹ گئی ہے اس کو پڑھ لیں۔ تو آپ کی جو چھوٹی ہوتی ہیں وہ قرأت والی چھوٹی ہوتی ہیں، اس لیے ان کو اس طرح ادا کرنا چاہیے۔ باقی اہل حدیث جو ہیں، وہ اپنی اسی ترتیب کا زیادہ زور دیتے ہیں، جو کسی حدیث سے ایسی چیز نہیں ملتی۔

تلاش کریں