:سوال
صلوٰۃ الشاشت اور صلوٰۃ الاوابین احادیث سے ثابت ہیں؟
: جواب از محمد حنیف صاحبؒ
یہ کوئی صحیح روایت نہیں ہے۔ چاشت تو ہوتا ہی نہیں ہے، چاشت، ‘چا’ ہے ہی نہیں عربی زبان میں۔ یہ اشراق کو انہوں نے کہا ہے، یا ضحیٰ جو دن چڑھے ہوتا ہے، وہ نبی علیہ السلام نے وہ اشراق نہیں پڑھی ہے دن چڑھے۔ دن چڑھے جو ہے آپ نے فتح مکہ کے موقع پر پڑھی ہیں تو آپ کی قیام اللیل نہیں ہوا تھا، تہجد نہیں ہوئی تھی، وہ آپ نے قضا پڑھی ہے اس کی ۱۲ رکعات۔ تو یہ اس کو یہ چاشت کہہ دیتے ہیں۔
باقی ضحٰی ہے، دن چڑھے پڑھنا، وہی ہے ایسے کسی بعض موقع پر آپ نے پڑھی ہے۔ باقی اشراق آپ نے متواتر پڑھی ہے۔ یعنی فجر کے بعد مسجد میں رہنا، قیام کرنا اور سورج بلند ہونے کے بعد پھر دو نفل پڑھ لینا، یہ اشراق کہلاتا ہے، یہی ثابت ہے صحیح حدیث سے۔